ابنا: اتوار کو بم دھماکوں کا سلسلہ بغداد کے جنوب مشرق میں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کوت شہر میں ایک کار دھماکے سے ہوا، ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں چھ افراد جاں بحق اور 15 دیگر زخمی ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق، اس کے بعد شہر کے باہر مزدوروں کو نشانہ بنا کر ایک اور کار بم دھماکہ کیا گیا جس میں پانچ افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔مہلک ترین دھماکوں میں سے ایک جنوب مشرقی بغداد میں شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے الامین میں واقع ایک کیفے میں ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ اڑا دیا اس حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہو گئے۔شمالی شہر موصل کے کے قریب تیل پائپ لائن کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں پر ایک بندوق بردار نے حملہ کر دیا، اس حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔اتوار کے روز دیگر حملے حلہ، عزیزیہ، مدائن، محمودیہ، ناصریہ، خرماتو، طوز، نجف اور بصرہ شہروں میں کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دہشت گردانہ حملے شیعہ اکثریتی علاقوں میں کیے گئے۔فوری طور پر کسی گروپ نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن عراق کی مرکزی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اکثر اس طرح کے حملے القاعدہ سے منسلک دہشت گردوں کے گروہ کرتےرہتے ہیں۔حالیہ دنوں میں عراق بھر میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلکی تعصب کو ہوا دے کر قطر، سعودی عرب اور ترکی خانہ جنگی شروع کرانا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں مئی کے مہینے میں پرتشدد واقعات میں 1045 افراد جاں بحق و 2400 وخمی ہوئے ہیں۔ 30 مئی کو عراق میں اقوام متحدہ کے سفیر مارٹن کوبلر نے خبردار کیا تھا کہ ملک میں کسی بھی وقت سیسٹیمیٹک تشدد بھڑک سکتا ہے۔انہوں نے ملک کو اس افراتفری کے ماحول سے نکالنے کے لئے عراق کے سیاسی رہنماؤں سے فوری اقدام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ سابق بعث پارٹی کے بچے کھچے عناصر اور القاعدہ سے منسلک دہشت گرد گروہ ملک میں تشدد کی تازہ لہر کے لیے ذمہ دار ہیں۔...../169
16 جون 2013 - 19:30
News ID: 430702
عراقی سیکورٹی اور ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سلسلے وار بم دھماکوں اور شوٹنگ کے واقعات میں اس جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 51 افراد تک پہنچ گئی ہے.