ابنا: پولیس حکام کے مطابق پہلا دھماکہ سنیچر کی دوپہر سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی ایک بس میں ہوا اور اس دھماکے کی زخمی طالبات کو بولان میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا جہاں شعبہ حادثات میں دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ابھی تک جاری ہے۔ حکام کے مطابق سات سے آٹھ سپاہ صحابہ طالبان کے مسلح افراد نے ہسپتال کے اندر عملے اور مریضوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہی فائرنگ کر رہے ہیں۔
نمائیندے سے ملنے والی اطلاعت کے مطابق مسلح افراد نے ہسپتال کی پہلی اور دوسری منزل پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ دستی بم بھی پھینک رہے ہیں۔
نمائیندے کے مطابق ہسپتال میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے اور ایف سی کے خصوصی دستوں نے ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق ہیلی کاپٹرز کی مدد سے علاقے کی فضائی نگرانی کی جا رہی ہے۔
شعبہ حادثات میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
کوئٹہ میں دہشتگردی کے اِن واقعات کا آغاز سنیچر کی دوپہر بروری روڈ پر یونیورسٹی کی بس میں دھماکے سے ہوا۔ پولیس کے مطابق بم بس میں نصب تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پھاڑا گیا۔ دھماکے سے بس میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
اس دھماکے کے بعد زخمی طالبات کو مقامی ہسپتال بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا اور جب اعلیٰ حکام موقع پر
پہنچے تو ہسپتال میں ایک اور دھماکہ ہوا۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جب دوسرا دھماکا ہوا تو کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں ہسپتال میں موجود تھے اور ڈپٹی کمشنر عبدالمنصور کاکڑ ہلاک اور اسسٹنٹ کمشنر انور علی شر زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی بلوچستان میں خواتین کی واحد یونیورسٹی ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق یونیورسٹی میں تقریباً تین ہزار طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔
واضح رہے کہ آج صبح بلوچستان کے شہر زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کے اطراف چار زوردار دھماکے ہوئے ہیں جن سے لکڑی سے بنی اس عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہوگیا۔
.......
/169