اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق لبنان کی مسلم علماء کونسل نے اپنے بیان میں شام کے علاقے ’’ حطلہ‘‘ میں تفکیری دھشتگردوں کے ہاتھوں انجام پانے والے غیر انسانی اور دردناک اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درندگی صرف مذہبی تعصب کی بنا پر ہے اس کے منفی اثرات سے تمام امت مسلمہ کو خبردار رہنا چاہیے۔
مسلم علماء کونسل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اس طرح کے وحشیانہ اقدامات کا مقصد لوگوں کی توجہات کو مسلمانوں کے اصلی دشمن صہونیت سے موڑ کر انہیں آپس میں ایک دوسرے کے دست و گریباں کرنا ہے۔ اس وقت جب دشمن شام میں شدید شکست سے دوچار ہے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کی جنگ چھیڑ کر مسلمانوں کی توجہات کو ان کے اصلی ٹارگٹ یعنی قدس اور فلسطین کی آزادی سے موڑنا چاہتا ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو خبردار رہنا چاہیے کہ لیبیا، تیونس، مصر اور شام میں یہ تمام قتل و غارت ان مفتیوں کے فتووں کی وجہ سے ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی روٹیوں پر پل رہے ہیں۔
لبنان کی مسلم علماء کونسل نے شام کے علاقے حطلہ کے دردناک سانحے کی مذمت کرتے ہوئے شامی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ دھشتگردوں کے مقابلے میں اپنے شہریوں کی جانوں کی حفاظت کو حتی المقدور یقینی بنانے کی انتھک کوشش کریں اس لیے کہ ان بے گناہ شہریوں کے پاس دھشتگردوں کے مقابلہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دھشتگردوں نے دو روز پہلے حطلہ کے شیعہ نشین علاقے میں عام شہریوں پر حملہ کر کے عورتوں، بچوں اور جوانوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے ذبح کیا اور ان کے جسدوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈال دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
مسلم علماء کونسل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اس طرح کے وحشیانہ اقدامات کا مقصد لوگوں کی توجہات کو مسلمانوں کے اصلی دشمن صہونیت سے موڑ کر انہیں آپس میں ایک دوسرے کے دست و گریباں کرنا ہے۔ اس وقت جب دشمن شام میں شدید شکست سے دوچار ہے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کی جنگ چھیڑ کر مسلمانوں کی توجہات کو ان کے اصلی ٹارگٹ یعنی قدس اور فلسطین کی آزادی سے موڑنا چاہتا ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو خبردار رہنا چاہیے کہ لیبیا، تیونس، مصر اور شام میں یہ تمام قتل و غارت ان مفتیوں کے فتووں کی وجہ سے ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی روٹیوں پر پل رہے ہیں۔
لبنان کی مسلم علماء کونسل نے شام کے علاقے حطلہ کے دردناک سانحے کی مذمت کرتے ہوئے شامی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ دھشتگردوں کے مقابلے میں اپنے شہریوں کی جانوں کی حفاظت کو حتی المقدور یقینی بنانے کی انتھک کوشش کریں اس لیے کہ ان بے گناہ شہریوں کے پاس دھشتگردوں کے مقابلہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دھشتگردوں نے دو روز پہلے حطلہ کے شیعہ نشین علاقے میں عام شہریوں پر حملہ کر کے عورتوں، بچوں اور جوانوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے ذبح کیا اور ان کے جسدوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈال دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲