13 جون 2013 - 19:30
شام میں جنگ کی تیاریاں برطانیہ میں دو سال پہلے سے ہو رہی تھیں

فرانس کے سابق وزیر خارجہ رولینڈ ڈوماس نے کہا: شام کی اسرائیل کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے برطانیہ نے دو سال پہلے شام میں جنگ چھیڑنے کا منصوبہ تیار کر کے افراد کو ٹریننگ دینا شروع کر دیا تھا۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق ڈوماس نے فرانس ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک مناظرے کے دوران کہا: دو سال پہلے جب میں برطانیہ گیا تو وہاں کے عہدہ داروں سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ شام میں جنگ چھیڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اپنے ملک میں افراد کو فوجی ٹریننگ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے بھی اس کام لے لیے آفر دیا کہ میں بھی ان کے ساتھ شریک ہو جاوں لیکن میں نے وہاں پر ان کی مخالفت کر دی۔انہوں نے مزید کہا: شام میں جنگ کی تیاریاں ۲۰۰۹ سے ہو رہی تھیں اور اس جنگ کا مقصد صرف بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کا دشمن ہے۔ ڈوماس نے کہا: اسرائیل کے وزیر اعظم نے کئی سال پہلے کہا تھا کہ ہم پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور جو ہماری مخالفت کریں گے ہم ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے اور ان پر حملہ کریں گے۔واضح رہے کہ علاقے میں ایران اور شام دو ممالک ایسے ہیں جنہوں نے کبھی بھی اسرائیل کے ناجائز وجود کو قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے دشمنوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ ان دو ممالک کی حکومتوں کو سرنگوں کیا جائے تاکہ ان میں اپنی دلخواہ حکومت لا کر اپنے ناجائز وجود کو منوائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲