10 جون 2013 - 19:30
شام میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کی تیاری

اسٹریٹجک شہر القصیر کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے ایک ہی ہفتے کے اندر شامی سکیورٹی فورسز نے پورے ملک میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ابنا: پیر کو دارالحکومت دمشق کے شمالی نواحی علاقے غوثیہ میں شامی سکیورٹی فورسز نے کم از کم 35 دہشت گردوں کو مار گرایا۔موصولہ اطلاع کے مطابق غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں اور مسلح باغیوں کے خلاف مل رہی ایک کے بعد دوسری مسلسل کامیابیوں کے بعد اب حکومتی فورسز نے ملک کے شمالی شہر حلب اور اس کے اطراف میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے بھر پور حملے کی تیاری کر لی ہے۔شام میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ چند گھنٹوں یا دنوں میں شروع ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ شامی حکومتی فورسز نے حزب اللہ کے تعاون سے سرحدی اسٹریٹجک شہر القصیر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اتوار کو لبنانی سرحد سے نزدیکی علاقے حمص میں حکومتی فورسز نے دہشت گردوں اور مسلح باغیوں کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے حمص پر تسلط حاصل کیا۔القصیر میں مسلح باغیوں کی شکست کو شامی فوج فیصلہ کُن فتح قرار دے رہی ہے۔شامی فوج ملک کے شمالی اور جنوب کے علاقوں کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک میں ترکی کے راستے پہنچنے والے اسلحوں اور گولہ بارود پر نگرانی رکھی جا سکے۔اخبار ’ آل وطن‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’ حلب کے اندر اور مضافات میں لڑائی کے لیے بڑے پیمانے پر فوج تعینات کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں محصور علاقوں کو آزاد کرایا جائے گا اور پھر دفاعی دستے بھی لڑائی میں شامل ہو جائیں گے‘۔ادھر سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی فوج کا اگلا ہدف حلب ہے۔سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حلب میں لڑائی آنے والے دنوں یا گھنٹوں میں شروع ہو سکتی ہے اور اس کا مقصد صوبے کے گاؤں اور قصبوں کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے قبضہ سے آزاد کرانا ہے۔اس معرکے کو ’آپریشن ناردن سٹروم‘ کا نام دیا گیا ہے۔دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے مبصر گروہ نے کہا ہے کہ مسلح باغیوں نے 15 سال عمر کے ایک لڑکے کو اُس کے والدین کے سامنے قتل کر دیا ہے۔......./169