10 جون 2013 - 19:30
عراق میں دہشت گردانہ حملے، ایک دن میں 70 جاں بحق

عراق میں نسبتا چند روز کے سکون کے بعد ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں بم دھماکوں اور حملوں میں کم از کم 70 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ابنا: عراق میں ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں بم دھماکوں اور حملوں میں کم از کم 70 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔کسی بھی گروہ نے ابھی تک ان دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری نہیں لی ہے، تاہم عراقی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک دہشت گرد گروہ ملک میں بدامنی پھیلا رہے ہیں.حکام کے مطابق پیر کو سب سے پہلے صوبہ دیالہ میں شیعہ اکثریتی قصبے جدیدہ الشط میں دو کار بم دھماکے اور ایک خودکش حملہ ہوا اور ان حملوں میں تیرہ افراد جاں بحق اور پچاس زخمی ہوئے۔اس کے بعد موصل میں سکیورٹی حکام اور پولس اہلکاروں کو نشانہ بناکر حفاظتی چوکیوں کے قریب ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم از کم 29 افراد جاں بحق اور 80 زخمی ہو گئے۔اس کے علاوہ کرکوک، تاجی اور تکریت میں ہونے والے حملوں میں بھی درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عراق میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے پر تشدد کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ عراق کے کچھ ہمسایہ ممالک ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق جون 2008 کے بعد سے اب تک گزشتہ ماہ عراق میں سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا جب 1045 عراقی شہری اور سکیورٹی اہلکار پرتشدد واقعات میں مارے گئے۔ جدیدہ الشط میں دھماکوں کا نشانہ سبزی منڈی بنی جو کہ دیالہ کے صوبائی دارالحکومت بعقوبہ کے نواح میں واقع ہے۔ ایک مقامی کسان حسن ہادی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’میں تربوز فروخت کر رہا تھا کہ میں نے بازار کے داخلی دروازے پر زوردار دھماکے کی آواز سنی۔ میں اڑتی مٹی اور دھول میں وہاں سے بھاگا کہ دوسرے دھماکے نے علاقے کو جنہم میں تبدیل کر دیا۔ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں متعدد حملے ہوئے ہیں۔ جمعہ کو دیالہ کے علاقے مقدادیہ میں ایک خودکش حملہ آور نے 16 ایرانی زائرین کو شہید کر دیا تھا۔ پیر کی ہی دوپہر کو بغداد کے شمال میں تاجی کے علاقے میں مچھلی بازار میں ایک کار بم پھٹنے سے کم از کم 7 افراد مارے گئے۔ اس واقعے کے کچھ دیر بعد موصل میں عراقی پولیس اور فوج کو کار بم دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں 24 افراد مارے گئے۔ طبی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ مرنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق عراقی سکیورٹی فورسز سے ہے۔ ان حملوں کے بعد موصل میں کرفیو لگا دیا گیا۔......./169