9 جون 2013 - 19:30
امریکی جاسوسی پروگرام کا پردہ چاک کرنے والے نے اپنی شناخت ظاہر کردی

سی آئی اے کے ایک سابق ملازم نے امریکی خفیہ جاسوسی پروگرام کا پردہ فاش کرنے والے کے عنوان سے اپنی شناخت ظاہر کردی ہے۔ اس جاسوسی پروگرام کے تحت امریکی شہریوں اور غیر ملکیوں کے فون ریکارڈز کیے جا رہے ہیں اور انٹرنیٹ کے استعمال پر نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

ابنا: ایڈورڈ سنوڈن نے جو اس وقت بوز ایلن ہیملٹن میں بطور دفاعی کنٹریکٹر ملازم ہیں کہا کہ دنیا بھر کے لوگوں کے بنیادی حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لئے انہوں نے پرزم جاسوسی پروگرام کا انکشاف کیا ہے.29 سالہ ایڈورڈ سنوڈن نے کہ جو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ رہ چکے ہیں گارڈین اخبار کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا کام کیا جائے، میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔واضح رہے کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔اس انکشاف کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لیتی ہے۔بعدازآں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا تھا کہ امریکی حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف غیر امریکی افراد ہیں۔ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ وہ ہانگ کانگ اس لیے گئے کہ وہاں پر آزادی اظہار کا حق ہے۔واضح رہے کہ براک اوباما نے اس جاسوسی پروگرام کا دفاع کیا تھا۔صدر اوباما نے کہا تھا کہ این ایس اے کے پروگرام کی منظوری کانگریس نے دی ہے اور کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹیاں اور خفیہ جاسوسی کی عدالتیں اس پروگرام کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں شہریوں کی جاسوسی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں فیس بک، یو ٹیوب، اسکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو بھی شامل ہیں۔ان خبروں کے بعد ورلڈ وائیڈ ویب کے خالق سر ٹم برنرز لی نے پرزم پروگرام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کے صارفین سے کہا کہ وہ انفرادی طور پر بھی اس معاملے پر آواز اٹھائیں اور احتجاج کریں۔......./169