ابنا: اقوام متحدہ نے کانفرنس میں اعلان کیا کہ ڈیڑھ بلین ڈالر کی اپیل کو بڑھا کر پانچ بلین کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس سال کے آخر تک ایک کروڑ شام کے شہریوں کو امداد کی ضرورت ہو گی۔بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں کم از کم چالیس لاکھ بچوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔غور طلب ہے تقریبا دو سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے شام میں بیرونی امداد یافتہ دہشت گرد اور مسلح سلفی گروہ حکومت بدلنے کے بہانے بڑے پیمانے پر تشدد میں مصروف ہیں اور لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، قطر، ترکی اور کچھ یورپی ممالک کھلے عام شام میں دہشت گردوں اور سلفی عسکری گروہوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بدامنی کی وجہ سے اس سال کے آخر تک پندرہ لاکھ مہاجرین کی تعداد بڑھ کر پینتیس لاکھ ہو سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شام کے ہمسایہ ممالک پر شدید دباؤ ہے کیونکہ روزانہ سات ہزار نئے مہاجرین شام سے مہاجرین کیمپوں میں آ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں بھی تقریباً ستّر لاکھ افراد بے گھر ہو جائیں گے اور وہ بھی امداد پر انحصار کریں گے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پانچ بلین ڈالر ان افراد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں صرف ہوں گے۔......./169
7 جون 2013 - 19:30
News ID: 427500
جمعہ کو جنیوا میں منعقد ہوئی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اقوام متحدہ نے شام کے پناہ گزینوں کی امداد کے لیے پانچ ارب ڈالر کی رقم کی اپیل جاری کی ہے جو عالمی تنظیم کی تاریخ میں سب سے بڑی امداد کی اپیل ہے۔