اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ ہارون كے جبر كے مقابلہ ميں امام موسى كاظم علیہ السلام كے رويہ نے اس كو اس بات پر اكسايا كہ وہ امام علیہ السلام كو نظر بند كرے اور لوگوں سے ان كے رابطہ كو منقطع كردے اس وجہ سے اس نے امام (ع) كو گرفتار كيا اور زندان بھيج ديا۔ ليكن مدينہ سے باہر لے جانے كے لئے ہارون نے مجبور ہو كر كہا دو كجاوے بنائے جائيں اور ہر كجاوہ كو مدينہ كے الگ الگ دروازوں سے باہر نكالا جائے اور ہر ايك كے ساتھ كچھ شہ سوارفوجى چليں۔ صرف امام كے عقيدتمندوں كے خوف سے يہ انتظام نہیں گيا گيا تھا بلكہ ہارون كو يہ فكر تھى كہ ان كے پاس كچھ افراد اور كچھ گروہ تيار ہيں جو ايسے موقع پر حملہ كركے امام(ع) كو اس كے مزدوروں كے چنگل سے چھڑالے جائيں گے_ اس وجہ سے اس نے ايسى احتياطى تدبير اختيار كى تھيں_حضرت موسى ابن جعفر (ع)پہلے بصرہ كے زندان ميں لے جائے گئے اور ايك سال كے بعد ہارون كے حكم سے بغداد منتقل كرديئے گئے اور كسى كو ملاقات كى اجازت ديئے بغير كئي سال تك قيد ميں ركھے گئے_آخر كار ۲۵ رجب ۱۸۳ ھ ق كو 'سندى بن شاہك' كے قيد خانے ميں ہارون كے حكم سے زہر ديا گيا، تين دن كے بعد شہيد ہوگئے اور بغداد ميں قريش كے مقبرہ ميں سپرد لحد كئے گئے_شہادت كے بعد ہارون كے آدميوں نے بہت اصرار كيا كہ لوگ اس بات كو قبول كرليں اور گواہى ديں كہ موسى ابن جعفر (ع)كو زہر نہيں ديا گيا اور وہ طبيعى موت سے دنيا سے رخصت ہوئے ہيں تا كہ اس بہانہ سے اپنے دامن كو ايسے سنگين جرم كے داغ سے بچاليں اور لوگوں كى ممكنہ شورش بھى روك ديں_















۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲