ابنا: ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ میں ہزاروں مظاہرین نے اتوار کی شب دیر تک مظاہرے کیے شہریوں نے اپنے گھروں کی بالکنیوں سے مظاہرین کی حمایت میں برتنوں کو بجایا اور سڑکوں پر نکل کر گاڑیوں کے ہارن بجائے اور فٹ پاتھ کے پتھر اکھاڑ کر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آنسو گیس اور پانی کی دھار استعمال کی۔ان جھڑپوں کے بعد علاقے میں مساجد، دکانوں اور ایک یونیورسٹی کو عارضی ہسپتالوں کی شکل دی گئی ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
استنبول میں ہزاروں افراد نے احتجاج میں حصہ لیا اور وزیراعظم کے دفتر کے قریب رکاوٹیں کھڑی کیں۔موصولہ اطلاع کے مطابق، پولیس کی جانب سے پھینکی جانے والی آنسو گیس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ کچھ مظاہرین موقع پر ہی الٹیاں کرتے اور کھانستے دکھائی دیے۔
گذشتہ جمعے کو ان مظاہروں کا آغاز استنبول میں ایک عوامی قدیم پارک کی جگہ پر دیگر تعمیرات کے علاوہ ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت ملک بھر میں پھیل گیا ۔ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ترک وزیرِ داخلہ معمر گلیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اب تک ملک کے 67 شہروں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ادھر ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایک مرتبہ پھر سرکار مخالف مظاہرین کو شدت پسند قرار دیا اور ان مظاہروں کو غیرجمہوری عمل بتایا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ ایک ڈکٹیٹر نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ مظاہرین اردگان کو فاشسٹ اور آمر قرار دے رہے ہیں کہ جو اپنے ذاتی فیصلوں کو دوسروں پر تھوپتے ہیں اور امریکہ و صیہونی حکومت کے دباؤ میں ہمسایہ ممالک کے داخلی مسائل میں دخل دیتے ہیں۔
ادھر اردگان متنازعہ منصوبے پر کام جاری رکھنے کے لیے بضد ہیں۔ انہوں نے ترک حزبِ اختلاف پر مظاہرین کو بھڑکانے کا الزام بھی لگایا ہے۔اتوار کو استنبول میں سینکڑوں مظاہرین دوبارہ قومی پرچم لہراتے ہوئے شہر کے وسط میں واقع تقسیم سکوائر پر پہنچے اور نعرے بازی کرتے رہے کہ حکومت مستعفیٰ ہو جائے۔مظاہرے میں شامل ایک شخص نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اختتام تک رکیں گے، ہم نہیں جا رہے ہیں، اور اب حکومت کے لیے صرف ایک ہی جواب ہے کہ اسے جانا ہو گا، ہم اس جابر حکومت سے تنگ آ چکے ہیں جو ہم پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے‘۔خیال رہے کہ یہ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔.......
/169