1 جون 2013 - 19:30
ترکی میں بدامنی کیوں اور کیسے شروع ہوئی؟+تصاویر

بد امنی کا شعلہ/ مظاہروں کا ترکی کے بڑے شہروں میں پھیلنا/ حکومت مخالف نعرے/ احتجاجی مظاہروں میں تمام گروہ شامل/ پہلی بار اردوغان کی معذرت خواہی/ اس تحریک سے پیدا ہونے والے احتمالات.

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مدتوں پہلے ترکی کے بارے میں یہ احتمال دیا جا رہا تھا کہ ایسا ہو گا جو آج ہو رہا ہے۔ اردوغان جو اپنے پڑوسی ممالک کے لیے زہر گھول رہا تھا آج اسے خود ہی پینا پڑ گیا۔بد امنی کا شعلہضروری نہیں ہے کہ کسی انقلاب کی ابتدا اس کے اعلی مقاصد کے پیش نظر ہی ہو بلکہ بسا اوقات ایک معمولی سے حرکت ایک بڑے انقلاب کا باعث بن جاتی ہے۔ جیسا کہ عرب ملکوں میں آنے والی اسلامی بیدار کی اس عظیم لہرجس نے ۴ بڑے عرب ڈکٹیٹروں کے تختے الٹ دئے اور پوری دنیا کو متاثر کر دیا، بلدیہ کی طرف سے ایک سبزی فروش پر کئے جانے والی ظلم سے شروع ہوئی تھی کہ جس نے اپنے آپ کو جلا دیا تھا۔ترکی میں بد امنی بھی استنبول کی بلدیہ کی طرف سے پاس کئے گئے ایک قانون کی وجہ سے شروع ہوئی ہے جس کے تحت انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ ’’ تقسیم اسکوائر‘‘ پر ایک بزنس سینٹر تعمیر کیا جائے۔ اس پروجیکٹ کی تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ ’’ تقسیم اسکوائر‘‘ سے تمام درخت کاٹ دئے جائیں گے۔لوگ اس قانون پر اعتراض اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ترکی کی پولیس نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کے عوام کے ساتھ غلط رویے نے لوگوں کو حکومت کے خلاف مزید بھڑکا دیا۔مظاہروں کا ترکی کے بڑے شہروں میں پھیلناترکی میں احتجاجی مظاہروں کا آج چھٹا دن ہے تاہم حکومت مظاہروں پر کنٹرول نہیں کر سکی۔ حال حاضر میں مظاہروں کا سلسلہ استنبول اور انقرہ سمیت ترکی کے دیگر بڑے شہروں ازمیر، آدانا، کونیا، مرسین، اسکی شہر، تکیر داغ، تونجلی، یڈرن اور مرماریس تک پھیل گیا ہے۔ترکی کے وزیر داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ احتجاجی مظاہرے ملک کے ۹۰ شہروں میں پھیل گئے ہیں جبکہ ۹۳۰ افراد کو حکومت نے حراست میں لے لیا ہے۔رجب طیب اردوغان کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا دائرہ صرف ترکی میں محدود نہیں رہا بلکہ یورپین ممالک جرمنی، ہولنڈ اور اسپین میں مقیم ترکوں نے بھی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔

ترکیه اعتراض

حکومت مخالف نعرےاب مظاہرین ’’تقسیم اسکوائر‘‘ پر کٹے جانے والے درختوں کے خلاف مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اردوغان کی ڈکٹیٹر حکومت کا تختہ الٹنے کے خواہاں ہیں۔ وہ حکومت کی امریکہ و اسرائيل نواز پالیسیوں اور شام میں القاعدہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے پر برہم ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں لگائے جانے والے نعروں سے یہ چیز بخوبی معلوم ہوتی ہے:۔ ڈکٹیٹر شپ مردہ باد۔ مزاحمت زندہ باد۔ اردوغان اردوغان استعفیٰ استعفیٰ۔ ڈکٹیٹر حاکم چھوڑ دے ملکاردوغان مردہ باد ۔۔۔احتجاجی مظاہروں میں تمام گروہ شاملاب تک تو ترکی میں اسلامی تنظیمیں حکومت کے خلاف کسی قسم کا اعتراض کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی تھیں بلکہ زیادہ تر اعتراضات سوشلسٹی اور مارکسیسٹی تنظیموں کی طرف سے ہی ہوتے تھے۔لیکن حال حاضر ہونے والے مظاہروں میں تمام گروہ شامل ہیں۔ دائیں بازوں پارٹیاں، بائیں بازوں پارٹیاں، سوشلسٹی، مارکسیسٹی، شیعہ و سنی تمام تنظیمیں اور پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں۔پہلی بار اردوغان کی معذرت خواہیترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اس سے پہلے اس کے باوجود کہ اس ملک کے پولیس اہلکار عوام کے ساتھ بد سلوکی سے پیش آتے رہے ہیں ہمیشہ پولیس کا دفاع کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ روز جب مظاہرے حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو رہے تھے عوام سے معذرت خواہی پر مجبور ہوئے۔اردوغان نے گزشتہ روز۔ ہفتہ۔ پہلی بار لوگوں سے معذرت خواہی کی اور مظاہرین سے درخواست کی کہ سڑکوں کو خالی کر دیں۔وزیر اعظم کی معذرت خواہی کے بعد ترکی کے صدر نے سکیورٹی فورسز ہٹانے کے احکامات جاری کر دئے تاہم مظاہروں میں مزید شدت نظرآ رہی ہے۔اس تحریک سے پیدا ہونے والے احتمالات۔ ممکن ہے ترکی میں پیش آنے والی اسلامی بیداری کی اس لہر سے اردوغان شام اور عراق کے خلاف سازشوں سے دستبردار ہو جائے۔ ۔ اپنی امریکہ اور اسرائیل نواز پالیسیوں میں تبدیلی پیدا کرے اور القاعدہ سے وابستہ دھشتگری گروپوں کی حمایت کرنا چھوڑ دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲