ابنا: علامہ سید ہاشم موسوی نے پاکستان میں موجودہ صورتحال کو گھمبیر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان اب مسائل کا گڑھ بن چکا ہے ۔دہشتگردی ،اغوا ء برائے تاوان ،رشوت خوری سمیت نا انصافی اور دیگر سماجی جرائم سے پوری ملت پریشان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام کی تمام ترامیدیں نئے پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے وابستہ ہیں ۔اب جبکہ حکومتیں اور اسمبلیاں تشکیل پا رہی ہیں ۔اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے حلف لیا جا رہا ہے تو عوام کی توقع یہی ہے کہ و ہ اپنے اس مقدس عہد کو اپنی پوری مدت فعالیت میں یاد رکھیں ۔اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر عوام کی بے لوث خدمت کریں ۔تاکہ آئندہ بھی عوام انھی افراد کو منتخب کر کے کامیاب بنائیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کی افادیت یہی ہے کہ تنقید کو برادشت کریں اور تنقید کرنے والے افراد سے دشمنی نہ برتے ۔بلکہ انھیں مزید تعمیری تنقید کرنے پر شوق دلائیں اور موقع فراہم کریں ۔تاکہ عوام مایوسی سے نکل سکے ۔امن و امان کا مسئلہ سر فہرست ہے ۔اس مسئلے کے سلسلے میں ماضی میں حکومتی کاروائیاں نہ ہونے کی برابر تھی ۔نو منتخب وفاقی اور صوبائی قیادتیں اپنی ہی نگرانی میں ٹارگیٹڈ آپریشنز کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔
.......
/169