ابنا: امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کے روز واشنگٹن میں اپنے جرمن ہم منصب گیدو ویسٹر ویلے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایسے حالات میں جب ہم شام کے مسئلے پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں، روس کی طرف سے شام کو ایس300 میزائل سسٹم کی فراہمی مفید ثابت نہیں ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دوبارہ روس سے کہیں گے کہ خطے میں طاقت کا توازن اسرائیل کے خلاف تبدیل نہ کرے، ان کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کو اسلحے کی فراہمی چاہے وہ پرانے معاہدے کی بنیاد پر ہو یا نئے معاہدے کی بنیاد پر، اس کے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے اسرائیلی کی سلامتی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔
جرمن وزیر خارجہ گیدو ویسٹر ویلے کا کہنا تھا کہ روس کی طرف سے شام کو میزائل کی فراہمی سے جینوا2 کانفرنس اور اسرائیل کی سلامتی خطرے میں پڑ جائیگی۔ یہ دونوں ڈپلومیٹ روس اور امریکہ کے تعاون سے شام کے بحران کے حل کیلئے ہونے والی اس انٹرنیشنل کانفرنس کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو ممکنہ طور پر جون کے وسط میں سوئیٹزر لینڈ کے شہر جینوا میں برگزار ہونے کا امکان ہے۔ روس کے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پہلے سے طے شدہ ایک معاہدے کے مطابق شام کو ایس300 میزائل سسٹم فراہم کرے گا، اس سے ایک دن پہلے یورپی یونین نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ شام میں سرگرم عمل باغی دہشتگردوں کو اسلحہ کی فراہمی پر لگائی گئی پابندی کو ختم کر رہا ہے، یورپی یونین کے اس اقدام سے شامی حکومت کے خلاف سرگرم عمل غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو اسلحہ کی فراہمی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
ایسے دو مغربی ممالک کی طرف سے روس کو انتباہ جاری کیا جا رہا ہے جو خود انتہائی جدید ہتھیار اسرائیل کو فراہم کرتے ہیں۔ اسرائیل نے ماہ اپریل کے آخر میں ڈالفن کلاس کی پانچویں آب دوز جرمن سے حاصل کی ہے، جس سے ایٹمی ہتھیاروں کے حامل میزائل چلائے جاسکتے ہیں۔ اس سے پہلے دو آب دوزیں مفت میں اسرائیل کو فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ تیسری آب دوز بھی 50 فیصد رعایتی قیمت پر اسرائیل کی فراہم کی گئی ہے۔ انٹرنیشنل ڈیفنس نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق چوتھی اور پانچویں آب دوز کی ایک تہائی قیمت بھی جرمنی خود ادا کرے گا۔ اسی طرح یہ بھی طے ہوا ہے کہ آئندہ چند سال میں جرمنی ایک ایٹمی آب دوز بھی اسرائیل کو فراہم کرے گا، جس کی قیمت 600 ملین یورو ہے اور جرمنی حکومت اس میں اسے 135 ملین خود ادا کریگی۔
مارچ میں امریکہ کے صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ واشنگٹن 2017ء تک حتّی اس کے بعد بھی اسرائیل کی فوجی مدد جاری رکھے گا، اس اتفاق رائے کے مطابق واشنگٹن اسرائیل کی سالانہ امداد 2٫4 ارب ڈالر کو 3٫1 ارب ڈالر تک بڑھا دے گا۔ اسی طرح باراک اوباما نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اس کے علاوہ آئندہ دو سالوں میں اسرائیل کو اینٹی میزائل "گنبد آھنین" سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے 600 ملین ڈالر کی ایک امداد فراہم کرنے کے لئے بھی امریکی کانگریس سے بات چیت کرے گی۔
ادھر امریکہ اور جرمنی نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی فوج کو جدید میزائل سسٹم مہیا نہ کرے، کیونکہ اس کی وجہ سے وہاں جاری تنازع طول پکڑ لے گا۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ روسی اسلحے کا انتہائی منفی اثر ہوگا اور اس سے اسرائیل کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ جرمن وزیرِ خارجہ گیدو ویسٹرویلے نے روس پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جان کیری اور ویسٹرویلے نے واشنگٹن میں ملاقات کی، جان کیری نے روس پر زور دیا کہ وہ بشارالاسد کی حکومت کو اسلحہ فراہم کرکے خطے میں طاقت کے توازن میں خلل نہ ڈالے۔
دیگر ذرائع کے مطابق شام کے تنازعے پر جرمن اور امریکہ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی اسلحہ سے خطے میں امن کو دھچکا پنہچے گا۔ امریکہ اور جرمنی نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی فوج کو جدید میزائل اسلحہ فراہم نہ کرے۔ اس سلسلے میں شام کے تنازعہ پر واشنگٹن میں گہری تشویش نظر آئی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ شام کو دیئے جانے والے روسی اسلحے کا خطے پر انتہائی منفی اثر ہوگا جبکہ جرمن وزیر خارجہ گیدو ویسٹر ویلے نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ روس امن مذاکرات میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ دوسری جانب شام کے قصبے القصیر میں جمعے کو بھی شدید جھڑپ جاری رہی۔ جان کیری اور ویسٹر ویلے نے بشار الاسد کے المنار ٹی وی کو دئیے گئے انٹر ویو کے اگلے ہی روز واشنگٹن میں ملاقات کی۔ واضح رہے کہ شامی صدر نے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ روس شام کو جدید دفاعی میزائل سسٹم فراہم کریگا۔
.......
/169