ابنا: یہ بات دنیا میں کسی بھی اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے کہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے سب سے اہم مسئلہ، مسئلہ فلسطین ہے۔ مشرق وسطٰی میں امن کے قیام کا واحد راستہ فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام اور دنیا بھر میں پھیلے فلسطینی مہاجروں کی باعزت اپنے وطن واپسی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء پاکستان سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ سید عقیل انجم قادری نے اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی نصب العین کے حصول کے لئے دنیا بھر کے اہل فلسطین اور ان سے محبت کرنے والے مصروف جہد ہیں۔
دنیا بھر میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لئے، گذشتہ چند سال سے عالمی کاروان القدس کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ جس نے دنیا بھر کے سیاسی ماحول کے اندر ایک تغیر پیدا کیا اور اہل مغرب کی نگاہوں کے سامنے اس بات کو اجاگر کیا کہ دنیا بھر کے حریت پسند لوگ نہ فلسطین کو بھولے ہیں اور نہ اہل فلسطین کو بھولے ہیں۔ اسی نصب العین کے حصول کے لئے گلوبل مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے حریت پسند، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام ایک دفعہ پھر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہوں گے، جہاں سے کاروان کی صورت میں غزہ کی جانب مارچ کریں گے اور امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔
علامہ السید عقیل انجم قادری نے کہا کہ اس مارچ کے خلاف اسرائیل اور اس کے گماشتوں کی جانب سے بہت سی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے، جسطرح میانمار میں ظلم کیا گیا اور دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہا۔ لیکن دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کے دل، دنیا بھر کے تمام حریت پسندوں کے دل، اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ قدم بہ قدم، لمحہ بہ لمحہ ان کے ساتھ ہیں اور ان کی تمام کاوشوں اور آزادی کی کوششوں میں ان کا ساتھ دینے کے لئے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علماء، مشائخ، صحافی اور مختلف شعبہ زندگی کے لوگوں نے سابق گلوبل مارچ میں شرکت کی تھی، وہ ایک دفعہ پھر پرعزم اور پرجوش ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ غزہ کی پٹی پر ان کا استقبال بندوق کی گولیوں سے کیا جائے گا۔ ایک آگ اور خون کا سمندر ہوگا جسے انہیں عبور کرنا ہوگا۔ لیکن وہ اپنے بھرپور جذبہ ایمانی کے ساتھ اس کربلائے وقت میں اترنے کے لئے تیار ہیں۔
.......
/169