ابنا: افغانستان سینیٹ کے بعض اراکین نے کابل ۔واشنگٹن دفاعی معاہدہ کی تنقید کی اور کہا ہے کہ مذکورہ معاہدہ کے نتیجہ میں اب تک افغانستان کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔سینیٹ کی ایک رکن بلقیس روشن کا کہنا تھا:’’جن لوگوں نے پچھلے سال امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کے حق میں گرین کارڈ اٹھائے تھے وہ آج ملاحظہ کریں کہ امن و امان کی صورتحال کس حد تک خراب ہو چکی ہے‘‘۔ایک دیگر رکن ہدایت اللہ رہائی نےوضاحت کی امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کو ایک سال ہو چکا ہے لیکن اب تک نہ تو امن و امان کی صورتحال میں کوئی بہتری آئی ہے اور نہ ہی لوگوں کی زندگی بدلی ہے۔واضح ہے کہ اس معاہدہ کا عملاًکوئی فائدہ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا:’’ایسی رپورٹیں بھی مل رہی ہیں کہ ۲۰۱۴ء تک افغانستان میں امریکہ کے مستقل فوجی ٹھکانے قائم ہو جائیں گے ، افغان عوام اس کے مخالف ہیں‘‘۔ اسی سلسلہ میں دایکندی کے سینیٹ رکن علی اکبر جمشیدی نے اپنے بیان میں کہا:’’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ہر چوبیس گھنٹے میں بڑی تعداد میں عام لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور حکومت کی موجودہ صورتحال کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں ہے‘‘۔اسی دوران افغان سینیٹ کے اسپیکر فضل ہادی مسلم یار نے بھی امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ پر اظہار ندامت اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کی۔ ان کے الفاظ تھے:’’اگر امریکہ کی حکومت کی جانب سے اُس کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو افغان عوام امریکی افواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور افغانستان امریکیوں کے لئے دوسرا ویتنام بن جائے گا‘‘۔...../169
31 مئی 2013 - 19:30
News ID: 425172
افغانستان کے کچھ سینیٹ اراکین نے کابل۔ واشنگٹن دفاعی معاہدہ پر اظہار ندامت کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو وہ افغانستان کو دوسرے ویتنام میں بدل دیں گے۔