31 مئی 2013 - 19:30
سعودی سفیر کے قتل پر عدالتی فیصلہ ایران فوبیا پر مبنی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے نیویارک میں سعودی عرب کے سفیر کے قتل کے الزام کے کیس سے متعلق اس ملک کی عدالت کے فیصلے کو امریکہ کا ایران فوبیا پر مبنی ایک اور قدم قرار دیا ہے۔

ابنا: ایران کی وزارت خارجہ کی رپورٹ مطابق، وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے آج اپنے ایک بیان میں، قتل کی سازش کے دعوے کہ جس کوحتی امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ ایک ھالی وڈ کی فلم سے تعبیر کیا تھا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے فیصلے نے سیاسی اھداف کی بناپر ایک مرتبہ پھر امریکہ میں عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ملزم کی مستقل طور پر غیر انسانی اور ناقابل قبول صورت حال منجملہ انفرادی جیلوں میں رکھے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم پر عائد کیئے جانے والے دعوے منجملہ ممکنہ اعتراف یا ہر قسم کاحکم کہ جو اس غیر انسانی صورتحال کو نظرانداز کرتے ہوئے دیا گیا ہو ، عدل و انصاف کے معیاروں کے خلاف ہے ۔یاد رہے کہ چند سال قبل امریکہ میں سعودی عرب کے اس وقت کے سفیر کے قتل کے لئے ، ایران کی سازش کے دعوے ، ایران کے خلاف مغرب کے بعض سیاسی حلقوں کی تشہیراتی ایشو میں تبدیل ہوگئے تھے ۔ ایرانی شہری منصور ارباب سیر کو امریکہ میں سعودی عرب کے اس وقت کے سفیر کے قتل کی سازش کے الزام میں ملزم قرار دیتے ہوئے ، امریکی عدالت نے 25 سال قید کی سزا سنائی ہے ۔جبکہ یہ ایسے میں ہے اسلامی جمہوریہ ایران نے اس واقع میں کسی بھی قسم کے رابطے کو سختی سے مسترد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲