28 مئی 2013 - 19:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) پارلیمنٹ کے اسپیکر، سربراہ کمیٹی اور پارلیمنٹ کے نمائندوں سے ملاقات میں قوہ مقننہ کو تمام امور کا نگراں اور قوہ مجریہ کو میدان میں سنگين امور انجام دینے کا ذمہ دار قراردیااور حکومت اور پارلیمنٹ کے باہمی روابط میں انصاف، گفتگو، تعاون اور قانون کی رعایت کے سلسلے میں تاکید اور گیارہویں صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب کو تلاش و کوشش کرنی چاہیے تاکہ انتخابات عوام کی ولولہ انگیز ،وسیع اور بھر پور شراکت کے ذریعہ منعقد ہوں کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے لیکر آج تک اسلامی نظام کا استحکام اور اقتدار عوام کی میدان میں وسیع پیمانے پرموجودگی اور پشتپناہی پر استوار رہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپوٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ولولہ انگیز انتخابات کے انعقاد کو ملک کی سلامتی، اقتدار،تحفظ اور دشمنوں کے خطرات کو دور کرنے کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوری نظام بڑا گہرا اور مضبوط نظام ہے کیونکہ اس کی جڑیں عوام کے اندر ہیں اور اسے عوامی پشتپناہی حاصل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی پشتپناہی کو  اسلامی نظام ، ملک اور قوم کی عزت اور سربلندی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: انتخابات عوام کی شرکت کا عظیم مظہر ہیں لہذا انتخابات میں عوام کی شرکت ولولہ انگیز اور نمایاں ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات کے تمام مراحل میں موجود قوانین کو معقول، منطقی ، جامع اور بغیر کسی رکاوٹ کے قراردیتے ہوئے فرمایا: اب تک کے تمام مراحل بھی قانون کی روشنی میں انجام پذیر ہوئے ہیں اور امیدواروں نے بھی اپنے انٹرویوز میں قانون پر عمل کرنے کی تاکید کی اور صلاحیتوں کی تائيد کے بعد بھی انھوں نے قانون پر عمل کیا لہذا ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جن کی صلاحیت کی تائید نہیں ہوئی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس رفتار کو قانون کی اہمیت اور ترجیح کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: ممکن ہے ہم قانون سے بھی راضی نہ ہوں لیکن قانون پر ہمارا عمل  قانون کے فصل الخطاب ہونے کا سبب بنتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے دوسرے نکتہ میں  صدارتی امیدواروں کی تشخیص اور انتخاب کے سلسلے میں عوام کی بصیرت اور ہوشیاری پر تاکید کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی عوام کی سیاسی مسائل میں آگاہی اور بصیرت ، عالمی متوسط سطح سے بہت بلند و بالا ہے اور اسی طرح ریڈيو اور ٹی وی کے پروگراموں کے ذریعہ بھی عوام  صدارتی امیدواروں میں سے اچھے اور اصلح امیدوار کو تشخیص دیکر انتخاب کرسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ممکن ہے جس نتیجہ تک انسان پہنچے وہ صحیح یا غلط ہو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن مہم یہ ہے کہ آپ نے اپنی تشخیص ، بصیرت اور آگاہی کے ذریعہ انتخاب کیا اور یقینی طور پر اللہ تعالی اس پر ثواب عطا کرےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صدارتی امیدواروں کو بھی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں میں شرکت کرنے والے امیدواروں  کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے دوش پر سنگین ذمہ داری ہے اور انھیں ہوشیار رہنا چاہیے اور عوام کی توجہ مبذول کرنے کے لئے حقیقت اور صداقت کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: صدارتی امیدواروں کی گفتگو حقیقت ، صداقت اور صحیح و درست اطلاعات پر مبنی ہونی چاہیے۔ 

.....

/169