27 مئی 2013 - 19:30
دہشتگردوں کو ہتھیار کی ترسیل پر سے پابندی اٹھانا خطرناک !

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عراقچی نے کہاہے کہ شام کے سلسلے میں تہران میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کےچالیس ملکوں اورعلاقائی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کودعوت دی گئی ہے۔

ابنا: وزارت خارجہ کےترجمان عباس عراقچی نے آج تہران میں اپنی ہفتےوار پریس بریفنگ میں اس بات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہ تہران کانفرنس، بحران شام کا سیاسی راہ حل تلاش کرنے کے لئےمنعقد کی جارہی ہے کہاکہ تہران کانفرنس کےتمام شرکاء شام کےعوام کےلئے قابل قبول سیاسی راہ حل تک پہنچنے کےلئے مزید ہمفکری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔عباس عراقچی نے کہاکہ ایران نے تمام ملکوں اورعلاقائی اورعالمی اداروں کوتہران کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے جوشام میں سیاسی طریقہ کار کےحصول میں مدد کرسکتے ہیں اور جن کےخیالات راہ گشا ہوسکتے ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے شام کےبارے میں بین الاقوامی مذاکرات کےآغاز کےموقع پر یورپی یونین کی جانب سے شامی مخالفین کو ہتھیار بھیجنے پرپابندی اٹھانے کےفیصلے پرافسوس ظاہرکرتےہوئے کہاکہ دہشتگردی کےخلاف جنگ میں جس کا مغربی ممالک دعوی کرتے ہيں، سب سےبڑی مشکل دہشتگردی کےسلسلے میں دہرا رویہ ہے۔وزارت خارجہ کےترجمان نے شام میں دہشتگردگروہوں کو ہتھیار بھیجنے پرپابندی کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو خطرناک قراردیا اور کہاکہ یورپی ممالک نے دہشتگردوں کی حمایت کی غلط پالیسی اختیارکرکے درحقیقت انھیں اپنی سرحدوں سےنزدیک کیا ہے اورانھوں نے اپنے اس عجولانہ اورغلط فیصلے سے اپنے لئے خطرات بڑھا لئے ہيں۔وزارت خارجہ کےترجمان نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کےبارے میں ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےسربراہ یوکیاآمانو کی رپورٹ کےبارے میں کہاکہ یوکیاآمانو کی رپورٹ کےمختلف پہلو ہيں اور اس رپورٹ میں جونظرآرہا ہے وہ این پی ٹی اورعالمی معاہدوں کےتناظرمیں ایٹمی میدان میں ایران کی پیشرفت ہے اور یہ ایران کےلئے قابل فخر ہے اوراس سےپتہ چلتا ہےکہ ایران کی پیشرفت اور کامیابیاں جاری ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نےسعودی وزیرخارجہ کےاس بیان پرکہ ایران علاقے میں جنگ کی آگ بھڑکا رہا ہے، افسوس ظاہرکیااور کہاکہ الزام لگانے اورسخت وتند موقف اختیارکرنے سے دونوں ملکوں کےمسائل کےحل میں کوئی مدد نہيں ملےگي۔عباس عراقچی نے کہاکہ ایران اورسعودی عرب علاقے کےدو اہم اور بااثرملک ہيں علاقے نیز عالم اسلام میں دونوں مشترکہ مفاد کےحامل ہيں لہذا انھیں اپنے اختلاف نظر کو جودونوں ملکوں کےنظریات کی  مختلف بنیادوں کی وجہ سے ہیں دوطرفہ مذاکرات اورصلاح ومشورے سے حل کرناچاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲