ابنا: فارس نیوز کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عراقچی نے کہا ہےکہ مختلف ممالک کے وزرا خارجہ اور اعلی عہدیداروں نیز عالمی تنظیموں کے نمائندوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئي ہے جس کا خیر مقدم کیا گيا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اجلاس شام کے بحران کو سیاسی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شروع ہی سے اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ شام کا بحران صرف مفاہمت آمیز طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ دراین اثنا نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے تہران نشست کو تشدد روکنے اور پرامن طریقوں پرعمل درامد نیز شام میں قومی گفتگو شروع کرانے کی کوشش قراردیا۔ادھر روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہےکہ بعض ممالک شام کے بارے میں جینوا ٹو کانفرنس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے شام کے خلاف غیر تعمیری قرارداد منظور کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا مقصد خاص اھداف تک پہنچنا ہے جبکہ ان حالات میں بنیادی ھدف شام میں تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ دراین اثنا اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے امید کااظہار کیا ہے کہ تہران اور جینوا ٹو نشستوں کے نتائج شام کے بحران کے پرامن حل پر منتج ہونگے۔ محمد حزاعی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے جو شام کے بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ ایران کی فوجیں شام میں ہیں اور ایران شام کے لئے ہتھیار بھیج رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
24 مئی 2013 - 19:30
News ID: 422741
اسلامی جمہوریہ ایران بدھ کے دن شام کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔