22 مئی 2013 - 19:30
اسلامی بیداری آخرالزمان کی خصوصیت

اسلامی بیداری آخر الزمان کے لوگوں کی ایک خصوصیت ہے جس کی طرف امام باقر علیہ السلام نے اپنی ایک حدیث میں اشارہ کیا ہے کہ آخری زمانے میں لوگوں کی سوجھ بوجھ اور ان کی سوچ کمال تک پہنچ جائے گی اور یہ چیز اسلام کے کثرت سے پھیلنے کا سبب بنے گی۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے آج ایرانی رضاکاروں کے ایک گروہ کے ساتھ گفتگو میں اسلامی بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج اسلامی بیداری کی لہر پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے کہ جس کا اصلی سرچشمہ انقلاب اسلامی ہے۔انہوں نے کہا: دنیا اس چیز کو سمجھ چکی ہے کہ ڈکٹیٹر اور ظالم حکومتوں کے خلاف مزاحمت ہی ان حکومتوں کا تختہ الٹ سکتی ہے۔آیت اللہ علوی گرگانی نے مزید کہا: آج دنیا کے لوگ بیدار ہو گئے ہیں آج کا زمانہ بیداری اور آگاہی کا زمانہ ہے آج کوئی شخص لوگوں پر ڈکٹیٹر شیپ نہیں چلا سکتا۔اس مرجع تقلید نے دشمن کے مد مقابل ایرانی عوام کے جذبہ استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران کے عوام ان لوگوں میں سے ہیں جو ہمیشہ اپنے فرائض اور وظائف سے آگاہ رہے ہیں۔ اس وجہ سے وہ کبھی دشمن سے دھوکہ نہیں کھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا: جب بھی انقلاب کو ضرورت پڑی ایران کے عوام میدان میں حاضر ہوئے اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا۔ ایران کے عوام اسلامی اور انقلابی اقدار کا دفاع کرنے والے ہیں اور انقلاب کی نسبت ان کے اندر پایا جانے والا جانفشانی کا جذبہ کبھی کم نہیں ہو گا۔اس مرجع تقلید نے آخری زمانے کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی بیداری آخر الزمان کے لوگوں کی ایک خصوصیت ہے جس کی طرف امام باقر علیہ السلام نے اپنی ایک حدیث میں اشارہ کیا ہے کہ آخری زمانے میں لوگوں کی سوجھ بوجھ اور ان کی سوچ کمال تک پہنچ جائے گی اور یہ چیز اسلام کے کثرت سے پھیلنے کا سبب بنے گی۔انہوں نے مزید کہا: یہی چیز بتا رہی ہے کہ دنیا میں لوگ کس قدر معنویات کے تشنہ ہیں اور اسلامی تعلیمات کی طرف کھچے ہوئے آ رہے ہیں۔آیت اللہ گرگانی نے برطانیہ میں کثرت سے اسلام پھیلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: برطانیہ کی حکومت اس ملک میں اسلام کے پھیلاو کو روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن نہیں روک پا رہی ہے۔ لوگ کثرت سے اسلام کی طرف آ رہے ہیں۔انہوں نے آخر میں تاکید کی: ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال اور کردار سے اسلامی ناب محمدی (ص) کی تبلیغ کریں تاکہ دنیا میں صرف اسلام کا بول بالا ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲