21 مئی 2013 - 19:30
مسلمانو ں کے درمیان کسی قسم کا تفرقہ ڈالنا،دشمن کی راہ پرچلنے کے مترادف ہے

آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ مسلمانوں خصوصا ہمسایہ ممالک کے مابین کسی قسم کا تفرقہ ڈالنا دشمن کے راستے پرچلنے کے مترادف ہے

ابنا: آیت اللہ مکارم شیرازی نے قفقاز اور آذربائیجان کے نامور عالم دین شیخ الاسلام پاشا زادہ سے ملاقات کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے آذربائیجان اور علاقہ قفقاز کے ہمسایہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں ہمسائیوں اور ان کے ساتھ روابط کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے جیسا کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام میں آیا ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں اتنی تاکید فرمائی ہے کہ گویا وہ ایک دوسرے کے خونی رشتہ دار ہیں۔

انہوں نے دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ہمسایہ ممالک کی بیداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں دشمنوں کو ایک دوسرے کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا ہے کہ مشرق اور مغرب میں رہنے والے تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ انما المومنون اخوۃ کہ مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے مل کر پیار و محبت سے حل کرنا چاہیے۔

شیعوں کے مرجع عالیقدر نے مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے تفرقے اور اختلاف کو دشمن کے راستے پر چلنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے اس وقت کئی اسلامی ممالک میں دشمن کے ابھارنے پرمسلمان دست و گریبان ہیں کہ جس کا فائدہ صرف دشمن کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ لہذا ہمیں ایسے مسائل اور تفرقے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے کہ جس سے دشمن خوش ہو۔

آیت اللہ مکارم شیرازی نے شیخ پاشازادہ کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ قفقاز اور آذربائیجان کے علاقے میں ایک بااثرشخصیت ہیں لہذا آپ اپنے اس اثرورسوخ کے ذریعے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے اور موجودہ مشکلات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ سفر ہمارے اور آذربائیجان اور قفقاز کے علاقے کے مابین گہرے روابط کے فروغ کا باعث بنے گا۔

قابل ذکر ہے کہ شیخ الاسلام پاشازادہ نے اس ملاقات کی ابتداء میں آیت اللہ مکارم شیرازی کو قفقاز اور آذربائیجان کے لوگوں کا سلام پہنچاتے ہوئے انہیں قفقاز اور آذربائیجان کے سفر کی دعوت دی ہے۔

.......

/169