19 مئی 2013 - 19:30

29 ممالک کے دہشتگرد شام میں باغیوں کے ساتھ ہیں/شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ اس وقت ۲۹ ممالک کے شہری باغیوں کے ساتھ مل کر شام کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے حالات کی خرابی میں ایک بڑا ہاتھ بیرونی مداخلت کا ہے جو شام کے حلات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ابنا: شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ اس وقت ۲۹ ممالک کے شہری باغیوں کے ساتھ مل کر شام کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے حالات کی خرابی میں ایک بڑا ہاتھ بیرونی مداخلت کا ہے جو شام کے حلات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں کہ شام کے مسائل اتنے پیچدہ کیوں ہو گئے ہیں، بشار اسد نے جواب دیا کہ شام کے داخلی اور خارجی بحران میں سب سے بڑا ہاتھ بیرونی عناصر کا ہے جنہوں نے شام کے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیاہے۔دوسری وجہ دشمن ممالک کی شام کے بارے میں پلاننگ غلط تھی، وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شام کو دو تین ہفتوں یا چند مہینوں میں حاصل کر لیں گے مگر لوگوں نے مقاومت کی اور مغربی طاقتوں کو نا امید کر دیا اور ابھی تک شامی عوام مقاومت دکھا رہے ہیں اور ہم اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک فرد کا قتل ہو یا کئی افراد کا، قتل تو ایک شامی باشندے کا ہوا ہے۔ تنہا ایک فرد کا قتل ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے اور یہ شام کے لئے نقصان اور ضرر کا باعث ہے۔ابھی اس بات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ کتنے لوگ مارے گئے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گرد ہر روز بے گناہ افراد کا قتل عام کر رہے ہیں اور بعض جگہ سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جارہا ہے۔البتہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مارے جانے والے افراد میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی افراد کی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے کا راہ حل گفتگو و مناظرہ ہے مگر بیرونی عناصر نہیں چاہتے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔

.....

/169