18 مئی 2013 - 19:30
میانمار کے بارے میں اقوام متحدہ خصوصی اجلاس تشکیل دے

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دائمی نمایندے محمد خزاعی نےمیانمار کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے ۔

ابنا: محمد خزاعی نے گذشتہ روز میانمار کے مسلمانوں کی صورت حال کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمایندوں کے خصوصی اجلاس میں میانمار میں مسلمانوں کے مذھبی اور قومی تصفیہ کو ہر بہانے کے تحت غیر منطقی اور ناقابل قبول قرار دیا اور حکومت میانمار سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو ہر ممکن طریقہ سے روکنے کے لئے اقدام کرنے کی ضرورت پر تاکید کی ہے ۔ محمد خزاعی نے اسلامی تعاون تنظیم رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت میانمار سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کو گرفتار کرکے انھیں قرار واقعی سزا دے ۔ خزاعی نے اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کی تشکیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی تعاون تنظیم کی تحقیقی کمیٹی کے اقدامات اور تاکیدات کا منتظر ہے جس نے اسی مقصد کے تحت علاقے کا سفر کیا ہے، ایران ناوابستہ تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے اس مسئلہ کا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے ذریعہ حل ک‏ے جانے کی کوشش  میں ہے ۔
تقریبا آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان شہری حقوق سے محروم ہیں اور وہ مسلسل انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں ، حکومت میانمار انھیں بنگلہ دیشی مہاجر قراردیتی ہے اور اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں ۔ اب تک سیکڑوں روہنگیا مسلمان انتہا پسند بدھسٹوں کے تشدد آمیز اقدامات کے نتیجہ  میں ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر اور آوارہ ہوچکے ہیں ۔حالانکہ میانمار میں انسانی المیہ کے حقائق اور اعداد وشمار کو بیان کرنے سےپرہیز کیا جاتا ہے ،حالیہ دنوں میں میانمار سے انتہا پسند بدھسٹوں کے تشدد اور مظالم سے فرار کرنے والے مسلمانوں کی کشتی جو سمندر کے راستے فرار کررہے تھے سمندری طوفان میں گرفتار ہوگئ اور یہ کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجہ میں ایک شخص کے علاوہ کشتی پر سوار دوسو کے قریب روہنگیا مسلمان ہلاک ہوگئے ۔ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے جاری رہنے کے باوجود سلامتی کونسل نے اس ملک میں ہونے والے مظالم کی تحقیق کے لئے ایک کمیٹی بھیجنے سے انکار کردیا ، جبکہ اس اقدام کے ذریعہ وہاں کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو زیادہ سے زیادہ فاش کیا جاسکتا تھا ،بلاشبہ میانمار کے بارے میں عالمی برادری کی خاموشی کے سبب اس ملک کے مسلمانوں کے حقوق بہت زیادہ پامال کئے گئے ۔ حالیہ دنوں میں مصر سے شائع ہونے والے الاہرام اخبار نے اپنے اداریہ میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے میانمار میں مسلمانوں کے بارے میں لکھا کہ اسلامی اور عرب ممالک میانمار میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے حقوق کی پامالی کے بارے میں کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں،یہ ایسے وقت ہے کہ ان ممالک کی بےتوجہی کے مقابلے میں بعض مغربی ممالک حکومت میانمار سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
میانمار کے سابق وزیر اعظم نے دو برس قبل صدارت کا عہدہ سنبہالنے کے بعد محدود طور پر اصلاحالات انجام دے کر منجملہ بعض سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے اصلاحالات جاری رکھنے کی بات کہی ،لیکن یہ اصلاحات اس ملک کے مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ پر مبنی حکومت کے نظریات تبدیل کرنے نیزان کے خلاف تشدد پسندانہ اقدامات روکنے میں شامل نہیں ہوسکیں ۔ ان اصلاحالات کے رد عمل میں یورپی یونین نے حکومت میانمار کے خلاف لگی پابندیوں میں سے صرف ہتھیاروں  کے علاوہ باقی تمام پابندیاں ہٹالیں ۔ یورپی یونین نے ٹھیک اسی دن میانمار کی حکومت پر لگی پابندیوں کو ہٹانے کا اعلان کیا جس دن ہیومن رائٹس واچ تنظیم نے حکومت میانمار پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کوقتل کرنے اور قومی اور نسلی تصفیہ کا الزام عائد کیا تھا ۔ تلخ اور ناگوار حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت اور اصلاحالات کے بہانے مسلمانوں پر تشدد اور انھیں سرکوب کیا جارہا ہے ۔ اس وقت میانمار کے صدر  وہائٹ ہاؤس کی دعوت پر امریکہ گئےہوئے ہیں تاکہ واشنگٹن سے اصلاحالات کی تائید اور تصدیق کراسکیں ۔
اس طرح کے تشوشناک کردار کے پیش نظر اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمایندے نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون یا ان کے نمایندے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی خصوصی نشست میں شرکت کرنے کی دعوت دی تاکہ میانمار کے بارے میں انھیں ایک رپورٹ دی جاسکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲