ابنا: رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ماسکو میں ایران کے سفیر محمود رضا سجادی نے کہا ہےکہ ایران آئي اے ای اے کے ساتھ اسپیشل پروٹوکول پر دستخط کرنے کے بعد ایجنسی کے معائنہ کاروں کو پارچین فوجی سائٹ کے معائنے کی اجازت دے گا۔
واضح رہے پارچین سائيٹ ایران کے ایٹمی پروگرام میں شامل نہیں ہے اور آئي اے ای اے کے قوانین کے مطابق ایران کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ معائنہ کاروں کو اس فوجی سائٹ کے معائنے کی اجازت دے اسکے باوجود آئي اے ای اے کے معائنہ کاروں نے دوہزار پانچ میں اس سائٹ کا دوبار معائنہ کیا تھا اور ان کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فوجی مرکز ہے اور یہاں کسی طرح کی ایٹمی سرگرمیاں انجام نہیں دی جاتی ہیں۔ ماسکو میں ایران کے سفیر نے اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی قیمت پر یورینیم کی افزودگي بند نہیں کرے گا اور فردو ایٹمی تنصیبات بھی بند نہیں کی جائيں گي۔ محمود رضا سجادی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مغربی ملکوں کے الزامات کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور اس معاہدے کی رو سے یورینیم کی افزودگي اس کا حق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
واضح رہے پارچین سائيٹ ایران کے ایٹمی پروگرام میں شامل نہیں ہے اور آئي اے ای اے کے قوانین کے مطابق ایران کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ معائنہ کاروں کو اس فوجی سائٹ کے معائنے کی اجازت دے اسکے باوجود آئي اے ای اے کے معائنہ کاروں نے دوہزار پانچ میں اس سائٹ کا دوبار معائنہ کیا تھا اور ان کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فوجی مرکز ہے اور یہاں کسی طرح کی ایٹمی سرگرمیاں انجام نہیں دی جاتی ہیں۔ ماسکو میں ایران کے سفیر نے اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی قیمت پر یورینیم کی افزودگي بند نہیں کرے گا اور فردو ایٹمی تنصیبات بھی بند نہیں کی جائيں گي۔ محمود رضا سجادی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مغربی ملکوں کے الزامات کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور اس معاہدے کی رو سے یورینیم کی افزودگي اس کا حق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲