ابنا: ایک ایسے وقت میں جب صہیونی ریاست کے حکمراں لگاتار ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی دھمکیاں دے رہے اور امریکی حکام بھی ’سارے آپشن میز پر ہیں ‘کی رٹ لگائے ہیں، ریاستہائے متحدہ کے وزیر دفاع چاک ہگل نے ایران اور شام کے مسئلہ کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا زورزیادہ نہیں چل سکتا۔
عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نور کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع چاک ہگل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جملہ مسائل من جملہ ایران کے جوہری پروگرام اور شام کے بحران کا فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل تلاش کئے جانے کی ضرورت ہے۔
خبر رساں ادارہ روئٹرز جس نے آج ہگل کی تقریر نشر کی ہے نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے یہ کہہ کر کہ مشرق وسطیٰ کا پرانا سسٹم اب اپنی میعاد پوری کر رہا ہے اس بات پر زور دیا کہ ریاستہائے متحدہ خطہ میں مبینہ جمہوری اصلاحات کے لئے کوشاں ہے لیکن انہیں یہاں امریکی اختیارات کی محدودیت کا بھی اعتراف ہے۔
روئٹرز کے بقول یہ بیان اس امر کا غماز ہے کہ اوباما حکومت خطہ میں موجود چیلنجز کے مقابلہ کے لئے طاقت کے استعمال پر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ہگل نے زور دیا کہ اس طرح کے معاملات کا تصفیہ اسرائیل اور علاقہ کے دیگر امریکی حلیفوں پر مشتمل کامن انٹریسٹ کولیشن کے توسط سے کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے جو کہ واشنگٹن کے ادارۂ منصوبہ سازی برائے مشرق وسطیٰ میں تقریر کررہے تھے کہا: ’’مشرق وسطیٰ کے ممالک جس ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ خطہ میں موجود چیلنجزکا ایک دیرپا اور اثر دار حل سیاسی ہے فوجی نہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا: ’’امریکہ اپنے سفارتی، معاشی، انسانی نیز خفیہ اور دفاعی ذرائع استعمال کرکے اپنے حلیفوں کے تعاون سے حالات کا رخ معین کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے‘‘۔
’’عرب میں اٹھنے والی تحریکوں نے مشرق وسطیٰ کا سیاسی منظر نامہ بدل دیا ہے۔۔۔ یہاں رائج پرانا نظام اپنی میعاد پوری کر رہا ہے۔البتہ اب اُس کی جگہ کون سا نظام لے یہ ابھی پوری طرح طے نہیں ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں خطہ میں عدم استحکام باقی رہے گا اور ہمیں اپنے آپ کو اس سے مطابقت دینا ہوگی‘‘۔
امریکی وزیر دفاع کے بقول خطہ کا استحکام مصر، لیبیا اور شام کے سیاسی رخ پر منحصر ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے خطہ کے معاملات میں محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’ریاستہائے متحدہ کو نئے نظام کی تشکیل کے عمل میں الجھنا ہوگا لیکن ہمیں سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔۔۔ اور اس کے لئے ہمیں جہاں اپنے قومی مفادات اور محدود دائرۂ کار کو مد نظر رکھنا ہوگا و ہیں دنیا کے اِس متضاد اور امید افزا خطہ کی پیچیدگیاں بھی صحیح سے درک کرنا ہوں گی جس کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی‘‘۔
انہوں نے اپنے بیان کے اگلے حصہ میں اس بات پر زور دیا کہ شام میں لڑائی فرقہ وارانہ صورتحال اختیار کر گئی ہے، اُنہیں جہاں شام کی جانب سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش ہے وہیں لڑائی کے ملک کی سرحدوں سے باہر تک پھیل جانے کا خطرہ بھی ہے۔تاہم انہوں نے شام میں امریکہ کی ریڈ لائن سے متعلق کچھ نہیں کہا۔
تقریر کے بعد جب اُن سے شام سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت جب تک ساری معلومات اکٹھی نہ کر لے کوئی اقدام نہیں کرے گا تاکہ ۲۰۰۳ جیسی انٹیلیجنس غلطی نہ ہو جس کا نتیجہ عراق جنگ کی صورت میں برآمد ہوا۔
انہوں نے مزید کہا: ’’حقیقت یہ ہے کہ بظاہر اب ہم سبھی پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو چکے ہیں اور اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ ہمارے کسی بھی قدم کے ممکنہ طور پر غیرمطلوبہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔۔۔البتہ پیچھے ہٹ جانے کے بھی اپنے غیرمطلوبہ اثرات اور نتائج ہوں گے‘‘۔
بہرحال امریکی وزیر دفاع کا بیان کئی لحاظ سے اہم اور قابل غور ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے غیر معمولی وضاحت سے امریکہ کی جانب سے مستقبل قریب میں خطہ میں کسی فوجی کاروائی کا امکان مسترد کیا اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جن میں اسرائیل بھی شامل ہے یکساں پالیسی اپنانے کا مشورہ دے کر یہ عندیہ دیا ہے کہ امریکہ کے اتحادیوں کو بھی ریاستہائے متحدہ جیسی ہی محتاط پالیسی اپنانی چاہئے۔ وہیں دوسری جانب ہگل کی جانب سے خطہ میں نئے نظام کی تشکیل پر زور، امریکہ کواپنی طاقت اور اختیارات کی محدودیت کے مدنظر سمجھداری اپنانے کا مشورہ یہ بتاتا ہے کہ خطہ کی غیر یقینی صورتحال نے امریکی حکومت کو کسی بھی قسم کی کشیدگی کے پھیلاؤ کے انجام سے متعلق سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اس صورتحال سے دور رہنے کی کوشش میں ہے۔
بہرحال امریکی وزیر دفاع کا یہ بیان ان مبصرین کے تجزیات کی توثیق ہے جن کا ماننا ہے کہ اگرچہ امریکی حکمراں اپنے بعض بیانوں میں ایران کے لئے ریڈ لائن معین کرتے اور کچھ سینیٹر جنگ کے خواہاں نظر آتے ہیں لیکن باراک اوباما امریکی طاقت کے وسائل اور ان کے استعمال سے متعلق اپنے اسلاف سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔
دلچسپ یہ کہ خود ہگل نے بھی اپنی تقریر کے آخر میں مذکورہ نوعیت کے سینیٹرز کی چٹکی لی اور کہاکہ وہ خود بھی جب سینیٹر تھے تو کھل کر اپنا موقف ظاہر کرتے تھے لیکن اب انہیں مزید سوچ سمجھ کر بولنے کی ضرورت ہے۔ ’’اب میں پہلے کی طرح کوئی غیرذمہ دارانہ بات نہیں کہہ سکتا‘‘۔
.....
/169