ابنا: عام انتخابات کے دن بھی انتخابی تشدد کا سلسلہ جاری رہا، کراچی میں خود کش حملے ، بم دھماکوں اور پولنگ اسٹیشنوں کے باہر تصادم میں فائرنگ کے نتیجے میں 17 /افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ رینجرز کی جوابی کارروائی میں 3 / دہشت گرد بھی مارے گئے۔ علاوہ ازیں پشاور، نصیر آباد ، مستونگ، ڈیرہ مراد جمال ، چمن اور دیگر علاقوں میں بم دھماکوں، حملوں اور فائرنگ سے سیکورٹی اہلکاروں سمیت 37/ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔ نصیر آباد میں امیدوار کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس سے 15/ افراد ہلاک ہوئے جبکہ حب ، نوابشاہ ، ٹھٹھہ ، چمن ، خاران ، بارکھان اور کوئٹہ میں دستی بم حملوں ، راکٹ باری اور سیاسی گروپوں کے درمیان خونریز لڑائیوں میں 22 / افراد لقمہ اجل بنے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اے این پی کے دفتر پر بم اور رینجرز پرخود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ تفصیلات کے مطابق قائدآباد تھانے کی حدود داؤد چورنگی کے قریب داؤد چالی میں واقع عوامی نیشنل پارٹی پی ایس 128 کے مرکزی الیکشن آفس کے باہر ہفتہ کی صبح زوردارر دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 3 سالہ بچے سمیت 11/ افراد جاں بحق ہوگئے۔ دھماکا عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوارر امان اللہ محسود کی گاڑی کے قریب رکشہ میں ہوا جس سے قریب واقع آٹھ دکانوں چھ گاڑیوں کو مکمل جبکہ دو مکانوں کی دیواروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد ہر طرف زخمیوں کی چیخ و پکار مچ گئی۔ جبکہ پولیس اور رینجرز نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر دوسرے دھماکے کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کو جائے وقوع سے دور کردیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ قریبی آبادیوں کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ اس موقع پر مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراؤکیا جبکہ کافی دیرتک میڈیا کے نمائندوں کوجائے وقوع کی طرف جانے سے روکے رکھا۔ بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کے انسپکٹر صابر درانی کے مطابق بم رکشہ میں پلانٹ تھا اور ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے منسلک تھا اور اس میں پانچ سے چھ کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ بم میں بال بیئرنگ بھی بڑی مقدار میں استعمال کیے گئے۔ علاوہ ازیں پیرآباد تھانے کی حدود قصبہ اور میانوالی کالونی میں دوپہر سفاری کوچ PE-2624 میں دھماکا ہوا جسکے نتیجے میں 2/ افراد ہلاک جبکہ پانچ افراد عزیز اللہ، میاں سعید، جان محمد، ایان اور یوسف زخمی ہوگئے۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق بم بس کے پچھلے گیٹ کے اس سیڑھی میں نصب کیا گیا تھا اور اس میں ایک کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا۔ بم ٹائم ڈیوائس سے منسلک تھا تاہم بم میں بال بیئرنگ اور نٹ بولٹ استعمال نہیں کیے گئے۔ سعیدآباد کے علاقے میں واقع پولنگ اسٹیشن ایس ایم پبلک اسکول کے باہر نامعلوم افراد دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا جبکہ فرنٹیئرکالونی ڈھائی نمبر کے ایم سی آفس اور میٹرو سینما کے قریب کریکر عملے سے خوف و ہراس پھیل گیا تاہم پولیس کے مطابق کریکر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔علاوہ ازیں منگھوپیر تھانے کی حدود اسلامیہ کالونی نیوناظم آباد کے قریب رینجرز کی 5موبائلیں اور 3موٹرسائیکلیں کھڑی تھیں کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آورنے خود کو بم سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں رینجر کے ڈرائیور لانس نائیک منیر اور اہلکار صغیر شہید ہوگئے جبکہ لیفٹیننٹ سعید ، اہلکار تنویر ، نذیر اور ممتاز زخمی ہوئے۔ ایس ایچ او منگھوپیر اسلم جوئیا کے مطابق خودکش حملے کے فوراً بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا اس موقع پر خود کش حملہ آور کے چار ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے لگے جن میں سے دو دہشت گرد منگھوپیر روڈ پر پہاڑی کے قریب مقابلے میں مارے گئے جن کے قبضے سے ایک نائن ایم ایم پستول برآمد ہوا جبکہ ان کے دیگر دو ساتھی فرار ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں کی رات گئے تک شناخت نہیں ہوسکی تھی۔ نیو کراچی صنعتی ایریا تھانے کی حدود نیو کراچی سیکٹر ایف فائیو دعا چوک کے قریب واقع ٹی سی ایف اسکول کے باہر دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوگیا اس دوران فائرنگ سے 28سالہ محمد شاہد ولد عبدالرزاق ہلاک ہوگیا۔ مقتول خمیسو گوٹھ کا رہائشی تھا ایس ایچ او قلندر بخش کے مطابق مقتول کو سینے میں ایک گولی لگی، کلری تھانے کی حدود آگرہ تاج کالونی میں PS-128کے پولنگ اسٹیشن کے باہرفائرنگ سے 30سالہ مسعود بٹ عرف نعمان عرف نومی بٹ ولد اکرم بٹ ہلاک ہوگیا پولیس کے مطابق مقتول غوثیہ مسجد آگرہ تاج کالونی کے قریب کا رہائشی تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے ترجمان وقارمہدی کے مطابق مقتول پیپلز یوتھ کا ورکر تھا اور اسے ٹارگٹ کرکے قتل کیاگیا ہے۔ حب سے نامہ نگار کے مطابق نامعلوم افراد نے گڈانی بس اسٹاپ پر کھڑے مسافروں پر دستی بم پھینک دیا جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔ ھالا سے نامہ نگارکے مطابق ضلع مٹیاری میں پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ، بوگس ووٹنگ پر پی پی پی اور فنکشنل لیگ کے کارکنوں میں تصادم ہوگیا جس کی کوریج کرنے والے جنگ جیو کے فوٹو گرافر کا کیمرہ چھین کر توڑ دیا گیا ۔ جھگڑوں کے باعث ہالا ، باوٴ خان پٹھان ، مصری جکھریجہ ، سوم چنڈ، فارسی فارم ، صاحب سماں ، ہالا پرانہ اور دیگر علاقوں میں تین تین گھنٹے پولنگ کا عمل معطل رہا۔ نوابشاہ بیورو رپورٹ کے مطابق شہرمیں پولنگ کے دوران پرُتشدد واقعات میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ دن بھر پولنگ اسٹیشنوں پر امیدواروں کے حامیوں میں جھگڑے ہوتے رہے ، پولنگ ختم ہونے کے بعد مسلح افراد متعدد پولنگ اسٹیشنوں سے بیلٹ پیپرز اور بیلٹ باکس چھین کر فرار ہوگئے۔ ٹھٹھہ کے علاقے کرسچن کالونی میں واقع پولنگ اسٹیشن پر مسلح افرادکی فائرنگ سے ایک مسیحی نوجوان انور مسیح ہلاک ہوگیا جو مسلم لیگ ن کا کارکن بتایا جاتا ہے۔ میہڑ میں28 پولنگ اسٹیشنوں پر دو گروپوں میں تصادم سے 30سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ ان اسٹیشنوں پر وقفے وقفے سے پولنگ بند رہی۔ پی ایس 27سکرنڈ سے سندھ یونائیٹڈ پارٹی (دس جماعتی اتحاد) کے امیدوار سید زین شاہ پر محراب پور اسٹیشن پر حملہ کیا گیا۔ سید زین شاہ کے چار محافظ زخمی ہوگئے۔ رتو ڈیرو میں پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ سے مسلم لیگ (ن) کے چار کارکن زخمی ہوگئے۔ میرپورساکرو سے نامہ نگار کے مطابق پی ایس 88میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اویس مظفر کے الیکشن انچارج محمد علی شیخ پر دیہہ مور چھڈائی میں حملہ کردیا گیا تھا جس میں حیدر رند شدید زخمی ہوگئے تھے جس کو کراچی علاج کے لیے بھیجا گیاتھا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگئے۔ پشاورکے نواحی علاقہ خزانہ ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن کے قریب موٹرسائیکل میں نصب بم زوردواردھماکے سے پھٹ گیاجس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ پولیس اور بچوں سمیت سات افراد شدید زخمی ہوگئے، نصیرآباد میں آزاد امیدوار سید خادم حسین شاہ کے قافلے پر بھی حملے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 20 افراد زخمی ہو گئے۔ دہشت گردوں کے بم دھماکے میں سید خادم حسین شاہ محفوظ رہے۔ چمن کے علاقے کلی فیضو میں پولنگ اسٹیشن پر دو امیدواروں کے حامیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 5افراد ہلاک جبکہ 4 زخمی ہوگئے علاقے میں پولنگ روک دی گئی مشتعل افراد نے 3 گاڑیوں کو بھی جلا دیا۔ دوسرے واقعہ میں سوراب میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 2افراد کو ہلاک کردیا اورفرار ہوگئے ۔ کوئٹہ کے علاقے کلی شابومیں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی4میں خواتین کے پولنگ اسٹیشن کے قریب نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سریاب کے علاقے برما ہوٹل کے قریب بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار احمدنواز بلوچ کے دفتر پر دستی بم پھینکا گیا۔ اسی طرح خاران میں پولنگ اسٹیشن پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ بی این پی کے ضلعی صدر حاجی غلام یاسین بلوچ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔کوہلو میں نامعلوم افرادکی جانب سے5راکٹ ،بارکھان میں ایک، خاران میں ایک، سوئی کے علاقے پیرکوہ میں ایک، ڈیرہ مرادجمالی میں ایک، اور ہرنائی میں بھی نامعلوم افرادکی جانب سے ایک راکٹ کا گولہ فائرکیا گیا تمام راکٹ میدانوں اورپہاڑوں پر گر کر زور دار دھماکوں سے پھٹ گئے۔مستونگ میں انتخابی عملے پر راکٹ حملے میں دو سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے۔ ہنگو کے علاقے علی آباد میں گندگی کے ڈھیر سے بم برآمد ہوا جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا،چارسدہ کے علاقے کتوزئی میں اے این پی کے انتخابی دفتر میں دھما کے سے دفتر کو جزوی نقصان پہنچا،نوشکی میں ایف سی چیک پوسٹ پر پانچ راکٹ فائرکیے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ لورالائی میں کچی جوگیانی پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ فائر کیا گیا تاہم اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔
.....
/169