اقوام متحدہ میں شام کے نمائندہ دفتر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے بعض رکن ملکوں نے اب تک نو بار النصرہ محاذ کے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت میں بیان منظور نہیں ہونے دیا کہ جن میں سینکڑوں بے گناہ افراد مارے گئے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب قطر ترکی امریکہ فرانس برطانیہ صیہونی حکومت اور بہت سے دیگر ممالک نے مارچ دو ہزار گيارہ سے اپنے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے شام میں بحران کھڑا کر رکھا ہے اور وہ ان کی مالی اور فوجی مدد کر کے شام میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی بنا پر قطر کے خلاف کارروائي کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے طالبان، نائیجیریا کے بوکو حرام اور شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سمیت دیگر ملکوں کے دہشت گرد گروہوں کے دفاتر قطر میں قائم کیے گئے ہیں اور یہ ملک دہشت گردوں کا حامی ہے اس لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو قرارداد تیرہ سو تہتر کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر کہ جس میں دہشت گردوں کو پناہ دینے پر پابندی کی گئي ہے، قطر کے خلاف کارروائي کرنی چاہیے۔ شام کے وزیر اطلاعات نے القاعدہ اور النصرہ محاذ کو قطر اور سعودی کے دو انٹیلی جنس بازو قرار دیا اور کہا کہ ترکی بھی اب دہشت گردوں کے اڈے اور پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے اور یہ رجب طیب اردوغان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
واضح رہے کہ سعودی عرب قطر ترکی امریکہ فرانس برطانیہ صیہونی حکومت اور بہت سے دیگر ممالک نے مارچ دو ہزار گيارہ سے اپنے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے شام میں بحران کھڑا کر رکھا ہے اور وہ ان کی مالی اور فوجی مدد کر کے شام میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی بنا پر قطر کے خلاف کارروائي کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے طالبان، نائیجیریا کے بوکو حرام اور شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سمیت دیگر ملکوں کے دہشت گرد گروہوں کے دفاتر قطر میں قائم کیے گئے ہیں اور یہ ملک دہشت گردوں کا حامی ہے اس لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو قرارداد تیرہ سو تہتر کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر کہ جس میں دہشت گردوں کو پناہ دینے پر پابندی کی گئي ہے، قطر کے خلاف کارروائي کرنی چاہیے۔ شام کے وزیر اطلاعات نے القاعدہ اور النصرہ محاذ کو قطر اور سعودی کے دو انٹیلی جنس بازو قرار دیا اور کہا کہ ترکی بھی اب دہشت گردوں کے اڈے اور پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے اور یہ رجب طیب اردوغان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲