اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی روزنامے "الاخبار" شام پر صہیونی حملے کے بعد صدر بشار الاسد کے نام ـ ہرحال میں دمشق کی لامحدود حمایت ـ پر مبنی رہبر انقلاب امام خامنہ ای کے فیصلہ کن پیغام پر روشنی ڈالی ہے۔اس اخبار کے مطابق شام پر اسرائیلی حملے کا جواب حتمی ہے اور ہر اقدام کے لئے تمام تر راستے کھلے ہیں تا کہ علاقے میں "خوف کا توازن" نہ بگڑنے پائے۔ یہ وہ جملہ ہے جس نے ایران کی طرف سے شام کی لامحدود اور ہمہ جہت حمایت کا آشکار کردیا اور اس بار ایران کے اعلی ترین عہدیدار نے براہ راست صدر شام کو پیغام بھجوایا۔تہران قاعدے کی گہرائی کو سمجھتا ہےالاخبار نے لکھا: گوکہ اسرائیل نے شام کو نشانہ بنایا لیکن اس کا اصل نشانہ ایران اور حزب اللہ ہے؛ تہران میں کئی افراد نے اس کے بارے میں اظہار خیال کیا لیکن موقف سب کا یکسان ہے: شام کی مکمل اور لامحدود حمایت اور ہم شام کو دشمن کے ہاتھوں میں نہيں پڑنے دیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے صدر شام بشار الاسد کو پہنچایا۔ اس پیغام میں ترجیح یہ ہے کہ ابتداء میں شام کے اندر پیشقدمی کی جائے، (یعنی) تہران میں شامی گروپوں اور جماعتوں اور ملت شام کے دوستوں کا وسیع البنیاد اجلاس بلایا جائے۔صالحی نے رہبر کا یہ پیغام صدر شام کو پہنچایا کہ: ایران تکفیریوں، دہشت گردوں، صہیونیوں اور شام کے خلاف جارحیت کے خواہاں تمام ممالک اور قوتوں کے مقابلے میں شام کی قوم اور حکومت کی ہمہ جہت اور لامحدود سیاسی، عسکری اور معاشی حمایت کرتا ہے۔تہران میں بعض ذرائع کے مطابق یہ پیغام حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے حالیہ خطاب سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور یہ پیغام اہم اس لئے ہے کہ رہبر انقلاب نے اسرائیلی حملے کے بعد براہ راست صدر شام کے لئے بھجوایا ہے۔ دربار اردن کو ایران کا انتباہصالحی شام کے دور سے قبل اردن میں بھی رکے اور اردنی بادشاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات میں انہيں ایران کا دوٹوک پیغام دیا کہ ایران بشار اسد اور شام کی بھرپور اور ہمہ جہت حمایت کرتا ہے۔ صالحی نے شاہ اردن سے کہا: ایران شام کے دفاع کے سلسلے میں سنجیدہ ہے اور ان کی حکومت نہیں گرنے دے گا؛ چنانچہ آپ بھی آگاہ رہیں کہ جب امریکہ شام کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرے گا آپ کا ملک نیست و نابود ہوجائے گا۔ صالحی نے عبداللہ دوئم کو خبردار کیا کہ امریکہ کے جال میں نہ پھنسے کیونکہ امریکہ کا ساتھ دیں گے تو آپ کا تاج و تخت بھی غارت ہوجائے گا اور اردن نام کا ملک سیاسی جغرافیئے سے حذف کیا جائے گا۔ الاخبار نے لکھا: صالحی نے شاہ اردن سے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران شام کے خلاف اقدام کے سلسلے میں انہیں درپیش دباؤ کی مزاحمت کے تمامتر اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہے اور شام کا فتنہ اردن میں سرایت نہ کرنے کی ضمانت دینے کے لئے بھی تیار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے شاہ اردن سے کہا: اگر اردن امریکی ـ اسرائیلی محاذ کے خلاف مزاحمت محاذ میں شامل ہونا چاہے تو ایران اردن کی ہمہ جہت حمایت کے لئے بھی تیار ہے۔اردنی ذرائع نے کہا ہے کہ شاہ اردن کو ایران کا پیغام فیصلہ کن مگر لطیف اور نرم تھا؛ اور شاہ اردن نے صالحی کو یقین دہانی کرائی کہ اردن شام کے مسائل میں مداخلت نہيں کرے گا۔ اور صالحی نے کہا کہ ایران اردن میں مقیم شامی پناہ گزینوں کے سلسلے میں بھی اردن کو امداد فراہم کرے گا۔رد عمل کی نوعیتالاخبار نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ عملی اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کے سلسلے میں مزاحمت محاذ کی حکمت عملی دو صورتوں میں ہوگی:1۔ کئی مقامات پر حملہ، خواہ شام کے اندر "محاصرہ کرنے، دباؤ بڑھانے اور توڑ دینے" کی حکمت عملی کے تحت، یا شام سے باہر کچھ اس طرح سے کہ "خوف کا موازنہ جو روز قیامت سے قریب تر ہورہا ہے" نہ بگڑنے پائے۔ الاخبار نے اپنے خاص ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے: جولان کو کھلی فضا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ محاذ شامیوں، فلسطینیوں اور اسرائیل کے خلاف لڑنے کے خواہاں لوگوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق روس اور امریکہ نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ اسرائیل کا حملہ جزوی تھا اور شام کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں پایا جاتا اور امریکیوں اور روسیوں کو بھی پیغام دیا گیا ہے کہ شامی فوج کے افسران کو شام کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا خودکار جواب دینے کی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔الاخبار نے لکھا ہے: اتوار کے روز اسرائیلیوں کے حملے کا مقصد یہ تھا کہ ماسکو میں جان کیری اور سرگئی لاوروف کی ملاقات سے قبل دمشق میں دراندازی کی جائے اور شام کو انارکی اور افراتفری سے دوچار کیا جائے لیکن یہ باغیانہ منظرنامہ ناکام ہوا [اور جان کیری نے ماسکو میں اعلان کیا کہ امریکہ جنیوا کے مفاہمت نامے کے تحت شام کی صورت حال پرامن انداز میں حل کرنے کے لئے تیار ہے حالانکہ ابتداء میں منصوبہ کچھ اور تھا۔ باخبر ذرائع نے الاخبار کو بتایا کہ اسرائیل نواز وہابی دہشت گردوں نے اسرائیل کی قیادت میں اس جارحانہ حملے کے ذریعے القصیر اور حلب میں شامی افواج کی پیشقدمی روکنے کی کوشش کی تھی جس کے تحت اسرائیل نے شامی فوج کی تنصیبات پر نو حملے کئے۔ان ذرائع نے کہا کہ جوابی حکمت عملی کی دوسری صورت تہران میں شامی جماعتوں اور گروپوں کے مشترکہ بین الاقوامی اجلاس کا انعقاد ہے جس میں شامی حکومت کے دو وزير "قدری جمیل" اور "علی حیدر" شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے 40 ممالک کو دعوت دی گئی ہے جس میں اسلامی جمہوریہ ایران بحران شام کو حل کرنے کے لئے اپنی نیا منصوبہ پیش کریں گے۔ جن ملکوں کو دعوت دی گئی ہے ان میں متحدہ عرب امارات، اردن، کویت، عمان، سعودی عرب، وسطی ایشیا کے ممالک، ہندوستان، ملائشیا، پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم اور غیروابستہ تحریک شامل ہیں۔ تہران میں متعلقہ ذرائع نے روس کے موقف کے بارے میں کہا: روس کا موقف ثابت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہيں آئے گی؛ وہ روسی ابتداء میں کیری کے وعدوں سے مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت میں گذشتہ کئی دنوں کے دوران مختلف قسم کے اعلانات و اظہارات سامنے آئے جن میں سپاہ پاسداران کے نائب کمانڈر حسین سلامی کے اس موقف کو اہمیت دی جارہی ہے کہ "اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی قومی سلامتی کی حدود بحیرہ روم تک بڑھا دی ہیں"۔......../*
10 مئی 2013 - 19:30
News ID: 418124
جاری ہفتے میں شام کی صورت حال نئے مرحلے میں داخل/ غاصب صہیونیوں نے امریکی ایماء پر موجودہ صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھا کر شام کی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور جبہۃالنصرہ کے اخوانی ـ وہابی دہشت گردوں کی مدد کرنے کی غرض سے شام پر حملے کئے چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران کا عزم، مزاحمت محاذ کے رکن ملک "شام" کے تحفظ کے حوالے سے، نئے تجربے سے گذر رہا ہے / "اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی قومی سلامتی کی حدود بحیرہ روم تک بڑھا دی ہیں"۔