8 مئی 2013 - 19:30
عالمي اور علاقائي معاملات ميں ايران و عمان کے مشترکہ نظريات

عمان کے وزير خارجہ اسلامي جمہوريہ ايران کے اعلي حکام سے بات چيت کرنے کے لئے تہران پہنچے ہيں - عمان کے وزير خارجہ يوسف بن علوي نے اپنے ايک روزہ دورہ تہران ميں وزير خارجہ علي اکبر صالحي سے دوطرفہ علاقائي اورعالمي معاملات اور علاقے کي تازہ ترين صورتحال پر بات چيت کي -

ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران اور عمان کے تعلقات گذشتہ کئي عشروں سے دوستي اخوت اور اخلاص پر استوار رہے ہيں –اور دونوں ہي ممالک نے بہت ہي دوستانہ طريقے سے ايک دوسرے کا ساتھ ديا ہےاور يہ تعلقات بدستور دوستي اور اخوت کي جانب گامزن ہيں –علاقائي معاملات اور علاقے ميں امن و استحکام کے تعلق سے بھي دونوں ملکوں کے موقف ہميشہ ايک جيسے رہے ہيں اور ايران و عمان نے ہميشہ اس بات پر تاکيد کي ہے کہ علاقے کے ممالک علاقے ميں بيروني قوتوں کي موجودگي کے بغير ہي خطے کي سيکورٹي اور استحکام کو يقيني بنا سکتے ہيں اور اپني مشکلات خود حل کرسکتے ہيں –ايران اور عمان کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درميان تسلسل کے ساتھ صلاح ومشورے بھي تمام ميدانوں ميں دوطرفہ مفادات کا تحفظ کرسکتے ہيں -ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے اس سے پہلے اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ تہران اور مسقط کے تعلقات مثالي ہيں اور دونوں ملکوں کے تعلقات بہترين سياسي تعلقات ہيں -ايران کے وزير خارجہ نے علاقے ميں اسلامي جمہوريہ ايران اور سلطنت عمان کے اہم کردار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے حکام نے ہميشہ ہي ايک دوسرے سے صلاح و مشورے کي حکمت عملي پر کام کيا ہے اور علاقائي و عالمي معاملات ميں دونوں نے ايک دوسرے کا بھرپور تعاون کيا ہے - ايران کےوزير خارجہ نے علاقائي اور عالمي ميدانوں ميں ايران اور عمان کے نظريات اور پاليسيوں کے يکساں ہونے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک علاقے ميں امن و سلامتي کي تقويت ميں باہمي تعاون کے ذريعے تعميري اور مفيد کردار ادا کرسکتے ہيں -ايران اور عمان کے تعلقات اور تعاون ايک ايسے وقت جب دشمنوں کي کوشش ہے کہ اختلافات اور تفرقے ڈال کر قوموں کو ايک دوسرے سے دور کرديں پہلے سےبھي زيادہ اہميت اختيار کرگيا ہے - بحرين اور شام ميں جاري بحرانوں کے پيش نظر ايران اور عمان کا کہناہے کہ يہ قوموں کا حق ہے کہ وہ اپني تقدير کا فيصلہ خود کريں اور جنگ و خونريزي سے صرف دشمنيوں اور عداوتوں ميں ہي اضافہ ہوگا –ايران اور عمان کا بحرين اور شام کے بحرانوں کے تناظر ميں يہي کہنا ہے کہ معاملات کو سياسي طريقے سے حل کئے جانے کي ضرورت ہے-تہران اور مسقط کا ماننا ہے کہ دشمن صرف اپنے ہي مفادات کي فکر ميں ہے اور علاقے کي موجودہ صورتحال سے فقط صہيونيوں اور سامراجي قوتوں کو ہي فائدہ پہنچے گا -دونوں ہي ممالک يہ سمجھتے ہيں تہران اور مسقط اپنے باہمي تعاون کے ذريعے علاقے ميں دشمنوں کي سازشوں کو ناکام بناسکتے ہيں -واضح رہے کہ عمان کے وزير خارجہ کا دورہ تہران وہ بھي ايک ايسے وقت جب ايران کے وزير خارجہ صالحي اردن اور شام کا دورہ کرکے لوٹے ہيں خاص اہميت  رکھتا ہے-

عمان کي حکومت نے بھي بارہا علاقائي اور عالمي مسائل ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف کي تعريف کي ہے –اور ايران کے خير خواہانہ نظريات اور اقدامات کي ہميشہ حمايت کي ہے - ايران اور عمان کا بار بار يہ کہنا ہے کہ شام کا مسئلہ سياسي طريقے سے ہي حل ہونا چاہئے اور اس کو فوجي طريقے سے حل نہيں کيا جاسکے گا اور دونوں ہي ملکوں نے کہا کہ وہ شام ميں امن و استحکام ميں مدد دينے کے لئے ہر طرح سے تيار ہيں –

.......

/169