2 مئی 2013 - 19:30
شام بین الاقوامی مبصرین کی میزبانی کرنے کو تیار

شام کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دمشق کیمیاوی ہتھیاروں کے مسئلے بارے میں بین الاقوامی مبصرین کی میزبانی کرنے کو تیار ہے اور ان کے مشن کے لئے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرے گا۔

ابنا: شام کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دمشق کیمیاوی ہتھیاروں کے مسئلے بارے میں بین الاقوامی مبصرین کی میزبانی کرنے کو تیار ہے اور ان کے مشن کے لئے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرے گا۔
 فیصل مقداد نے آج لبنان کے اخبار السفیر سے گفتگو میں کہا کہ شام کی حکومت کیمیاوی ہتھیاروں کے مسئلے کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کے مبصرین کو ملک آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام گرچہ اقوام متحدہ کے مبصرین کو ملک آنے کی اجازت دے گا لیکن ان کا کام خان العسل کے علاقے تک محدود ہونا چاہیے۔ شام کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کے الزامات کے سلسلے میں دیکھا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بعض ملکوں کے دباؤ کی بنا پر شش و پنج میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مبصرین کو خان العسل کے علاقے میں نہ بھیجنے کا کوئي جواز نہیں ہے اور جن ملکوں نے دہشتگردوں کو کیمیاوی ہتھیار دئیے ہیں وہ مبصرین کی روانگي کے سلسلے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں تشویش لاحق ہے کہ کہیں ان پر جارح ہونے کا الزام نہ آجائے۔ واضح رہے شام کے میڈیا کا کہنا ہے کہ ترکی نے جبھۃ النصرۃ اور نام نہاد آزاد فوج کو کیمیاوی ہتھیار فراہم کئے ہیں تا کہ شام کی حکومت پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایاجاسکے۔ دوسرے طرف اطلاعات ہیں کہ شام کی فوج نے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے ہتھیاروں کے ذخيرے دریافت کرکے ضبط کرلئے ہیں۔ شام کے ٹی وی کے مطابق شامی فوج نے دمشق کے مضافات میں داریا علاقے میں پانچ سومیٹر کی ایک سرنگ دریافت کی ہے جس میں دہشتگردوں نے ہتھیار رکھے تھے۔ حمص کے مرکزی علاقےمیں بھی دہشتگردوں کا بم بنانے کا ایک مرکز پکڑا گيا ہے۔ شام کی فوج نے ان علاقوں سے دہشتگردوں کا صفایا کرکے انہیں اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ شام کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق فوج نے شمالی صوبے حلب اور مغربی صوبے ادلب پر مکمل طرح سے کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ مرکزی صوبے حمص میں دہشتگردوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کی اطلاع ہے۔ ان علاقوں میں فوج نے دسیوں دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲