ابنا: ميانمار کے شہر يانگون سے ايک سو دس کلومٹير کے فاصلے پر واقع علاقے اوکھان ميں ايک بار پھر مسلم آبادي پر انتہا پسند بدھسٹوں نے حملے شروع کرديئے ہيں-
انتہا پسندوں کے حملوں کے تنيجے ميں سيکڑوں کي تعداد ميں مسلمان اطراف کے جنگلوں ميں پناہ لينے پر مجبور ہوگئے ہيں جہاں انہيں انتہائي دشوار صورتحال کا سامنا ہے-
جنگل ميں پناہ لينے والےروہنگيا مسلمانوں کے پاس کھانے پينے کو کچھ ہے اور نہ ہي زندگي کی دوسري ضروري اشيا ميسر ہيں- کہا جارہا ہے کہ چار سو انتہا پسند بدھسٹوں کے ايک گروپ نے اوکھان کے علاقے ميں مسلمانوں کے گھروں پر حملے کئے اور دو مساجد کو مسمار کرديا ہے، اس حملے ميں کم از کم ايک مسلمان کے مارے جانے درجنوں کے زخمي ہونے کي خبر ہے-
ايمنسٹي انٹر نيشنل نے الزام لگايا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد ميں حکومت ميانمار برابر کي شريک ہے اور اس نے انتہا پسندوں کو مسلمانوں کے نسلي تصفيہ کي کھلي چھوٹ دے رکھي ہے-
اقوام متحدہ نے ميانمار کے روہنگيا مسلمانوں کو دنيا کي سب سے زيادہ مظلوم اقليت قرار ديا ہے-
.......
/169