ابنا: سید حسن نصراللہ نے ان خیالات کا اظہار حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار پر لائیو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کے مخالفین فوجی طاقت کے ذریعے ان کی حکومت نہیں گراسکتے۔حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ شام میں غیر ملکی حمایت یافتہ باغیوں اور ان کے علاقائی سرپرستوں نے اپنے مغربی حمایتیوں کو یقین دہانی کروائی تھی اور کہا تھا کہ وہ دو ماہ کے اندر شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرا دینگے، لیکن دو سال گزر جانے کے باوجود وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے اور نہ ہی آئندہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو پائیں گے، سید حسن نصراللہ نے اس بات پر زور دیا کہ شام کے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ شامی عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔المنار ٹی ویپر اپنے نشری خطاب میں شام میں سرگرم عمل تکفیریوں کی طرف حضرت زینب (س) کے روضے کو شہید کرنے کی دھمکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ بعض مسلح گروہ حضرت زینب (س) کے روضےسے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کی صورتحال خاصی نازک ہے۔ تکفریوں نے دھمکی دی ہے کہ شام پر تسلط حاصل کرنے کی صورت میں حضرت زینب (س) کے روضے کو شہید کر دیں گے، اس طرح کے اقدام کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ حضرت زینب (س) کےروضےکے دفاع کے لئے شہید ہو رہے ہیں وہ بلا شبہ ایک فتنے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ حضرت زینب (س) کے روضےکا دفاع اور تکفیریوں کو روضہ مبارک کے انہدام سے روکنا واجب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دمشق کے جنوب میں واقع سیدہ زینب (س) کے روضے کو نقصان پہنچا تو حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔.......
/169