ابنا: ڈی آئی جی سکھر جاوید اوڈھو کا کہنا ابراہیم جتوئی اپنے گاؤں سے شکارپور آرہے تھے کہ ٹول پلاڑہ کے قریب موٹر سائیکل سوار حملہ آور ان کی گاڑی سے ٹکرایا جس میں ڈاکٹر ابراہیم محفوظ رہے ہیں انہیں معمولی چوٹیں آئی ہیں۔دھماکہ میں ہلاک ہونے والے خودکش بمبار کی عمر بیس سے پچیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہے اوران کے چہرے پر ہلکی داڑھی موجود ہے۔پولیس نے دو زخمیوں میں سے ایک کو حراست میں لے لیا کیونکہ جتوئی برداری نے اس پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کا کہنا ہے کہ جب حملہ آور اچانک ان کی گاڑی سے ٹکرایا توگاڑی میں دھواں بھر گیا اور نہیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے ہیں۔یاد رہے کہ دو ہزار دس میں بھی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کی جانب سے منعقد کی گئی دس محرم الحرام کی مجلس میں حملے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں پولیس کی فوری کارروائی کی وجہ سے لوگ محفوظ رہے تھے اور بمبار ہلاک ہوگیا تھا۔رواں سال پچیس جنوری کو شکارپور شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ کے مزار میں بم دھماکے میں گدی نشین حاجن شاہ سمیت چار افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے ہیں۔خیرپور،جیکب آباد، سکھر ، اور لاڑکانہ ، شکارپور میں مذہبی انتہا پسند کالعدم تنظیمیوں سپاہ صحابہ ،طالبان لشکری جھگوی نے اپنی پناہ گاہیں بنالی ہیں......../169
30 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 415034
صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں نیشنل پیپلز پارٹی کے انتخابی شیعہ امیدوار ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر خودکش حملے میں خودکش بمبار ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔