29 اپریل 2013 - 19:30
کوئٹہ کے عوام اپنی ووٹ کے طاقت سے اپنے بنیادی انسانی آئینی حقوق حاصل کرکے رہینگے

کوئٹہ- پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے انتخابی مہم کے سلسلے میں حلقہ پی بی 5کوئٹہ اور پی بی 6میں سیاسی سرگرمیاں ،جلسے ،عوامی جرگے شمولیت کے پروگرام بڑے زور شور سے جاری ہے گزشتہ روز کوٹوال کلی خلجی آباد میں نقیب اللہ خلجی ،ملک ہاشم سلیمان خیل کی قیادت میں 120افراد ،اختر جان ناصر کی قیادت میں سینکڑوں افراد ،نوحصار سمنگلی میں 115افراد ،افغانیہ خروٹ آباد کلی خلجی آباد سبزل روڈ یوسفزئی پلازہ میں 185افراد ،افغانیہ خروٹ آباد کلی سلطان آباد میں محمد رمضان خلجی کی رہائش گاہ پر حاجی سلطان خیل کی قیادت میں165افراد،احمد خانزئی بائی پاس بینک کالونی میں 15خاندانوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

ابنا: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے انتخابی مہم کے سلسلے میں حلقہ پی بی 5کوئٹہ اور پی بی 6میں سیاسی سرگرمیاں ،جلسے ،عوامی جرگے شمولیت کے پروگرام بڑے زور شور سے جاری ہے گزشتہ روز کوٹوال کلی خلجی آباد میں نقیب اللہ خلجی ،ملک ہاشم سلیمان خیل کی قیادت میں 120افراد ،اختر جان ناصر کی قیادت میں سینکڑوں افراد ،نوحصار سمنگلی میں 115افراد ،افغانیہ خروٹ آباد کلی خلجی آباد سبزل روڈ یوسفزئی پلازہ میں 185افراد ،افغانیہ خروٹ آباد کلی سلطان آباد میں محمد رمضان خلجی کی رہائش گاہ پر حاجی سلطان خیل کی قیادت میں165افراد،احمد خانزئی بائی پاس بینک کالونی میں 15خاندانوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹری عبدالرؤف لالا ،پی بی 5کے امیدوار نصراللہ خان زیرے ،پی بی 6سے پارٹی کے امیدوار منظور خان کاکڑ ،نظام عسکر ،اسد صاحب ،عبدالمالک بازئی ،عبدالرحمن بازئی ،ارباب قادر کاسی ،اکرم خلجی ،ملک ہاشم سلیمان خیل ،اختر جان ناصر ،نقیب اللہ خلجی ،ادریس آغا ،عبدالودود بازئی ،طاہر شاہ ترکئی ،حاجی سلطان خیل ،حاجی فضل خلجی اور عطاء محمد ہمدرد نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ہزاروں افراد کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ سابقہ صوبائی حکومت کے کرپٹ وزراء اور اس میں شامل پارٹیوں پر عوام اظہار عدم اعتماد کرچکے ہیں اور 11مئی کو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں اپنی حق رائے دہی استعمال کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم خطے ملک اور معاشرے کی مجموعی سیاسی جمہوری معاشی ثقافتی وسماجی کا انحصار تعلیم سے مربوط ہے اور 21ویں صدی علم وسائنس کی صدی ہے لیکن سابقہ کرپٹ حکومت اور اس کے وزراء نے کوئٹہ کے شہریوں کو نہ صرف جدید علوم سے محروم رکھا بلکہ علاج معالجے کی سہولتوں کا فقدان رہا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں وزراء کی جانب سے سرکاری وسائل کے ضیاع اور لوٹ کھسوٹ کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے غیور عوام اب اپنی ووٹ کے طاقت سے اپنے بنیادی انسانی آئینی حقوق حاصل کرکے رہینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پشتونخوا وطن کو بے شمار قدرتی دولتوں سے نوازا ہے لیکن قومی واک واختیار نہ ہونیکی وجہ سے آج استعماری قوتیں ان وسائل سے فائدہ اٹھارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے شہریوں پر اس وقت بدترین بدامنی مسلط ہے عوام چوروں ڈاکوؤں ،اغواء برائے تاوان کے مسلح گروپوں ،دہشتگردوں ،انتہا پسندوں کے نرغے میں ہے اور عوام جان ومال کے خطرات سے دوچار ہے۔ لاقانونیت کا دوردورہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ صوبے میں پشتونوں کی قومی برابری کیلئے 11مئی کے انتخابات نہایت اہمیت کے حامل ہے اور بدترین لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کرنے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کوئٹہ شہر کے سڑکوں سیوریج نظام ہسپتالوں تعلیمی اداروں کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کیلئے عوام اپنی رائے کا صحیح استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ 11مئی کو عوام حلقہ این اے 260سے پارٹی امیدوار پشتونخوامیپ کے سینئر ڈپٹی چےئرمین محترم عبدالرحیم مندوخیل اور پارٹی کے دیگر امیدواروں کو اپنے قیتمی ووٹ سے کامیابی دلائیں گے۔

.......

/169