ابنا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے این پی ٹی کے معاہدے پر نظر ث انی کے مقدماتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی فائل سکیورٹی کونسل میں منتقل کی جانی چاہیے کیونکہ اسرائيل این پی ٹی کا رکن ملک نہیں ہے اور اس نے این پی ٹی کے رکن ملک شام پر حملہ کیا ہے لہذا اس کی فائل سکیورٹی کونسل میں منتقل ہونی چاہیے۔ علی اصغر سلطانیہ نے مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قراردینے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پوری دنیا سے ایپٹمی ہتھیاروں کو نابود کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ یہ ہتھیار انسانیت کے لئے زبردست خطرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین طرف کمزور ممالک کے لئے ہی کیوں ہیں ان کا اطلاق منہ زور اور سامراجی طاقتوں پر کیوں نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ جب شام این پی ٹی کا رکن ملک ہے تو شام کے ایٹمی پلانٹ پر اسرائيل نے حملہ کرکے اسے کیوں تباہ کیا لہذآ اسرائيل کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف اس کی فائل سکیورٹی کونسل میں بھیجی جانی چاہیے۔
.......
/169