ابنا: مونٹروگ شہر کے برادری انسٹی ٹیوٹ کی کال پر۸۰۰سے زائد فرانسیسی افراد نے بلدیہ کی جانب سے اس شہر کی مسجد کے بندکیے جانے کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا ہے۔مظاہرین نے اس مظاہرے میں میری مسجد کو ہاتھ نہ لگاو کے نعرے لگاتے ہوئے بلدیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اکلوتی مسجد کو بند کرنے سے اجتناب کرے۔مظاہرین میں شرکت والے ایک شخص جمال عبدالانصار نے کہا ہے کہ پوری امتوں کی تہذیب وتمدن اور اعتقادات کا احترام کیا جانا چاہیے اور مونٹروگ کے مسلمانوں کو بلدیہ کی طرف سے تحقیر کا سامنا ہے جبکہ اس شہر میں بسنے والے یہودی کیتھولک اور لائیک شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ظاہری طور پر ہم اس علاقے میں ایک چھوٹی اقلیت ہیں لیکن ہم اپنی دوستیوں اور ایک دوسرے کے دلوں میں اکثریت رکھتے ہیں اور یہ مظاہرہ جمہوریہ فرانس کی فراموش شدہ امت کی آواز ہے۔ان مظاہروں کو منظم کرنے والی آرگنائزیشن نے اپنے بیانیے میں میونسپل کمیٹی کو مسلمانوں کے ساتھ صلح وامن کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثقافتی مراکز میں لوگوں کی کو امن وامان فراہم کرنا بلدیہ کے فرائض میں سے ہے ہر مذہب کا اپنا مقام ہے اور دیگر تہذیبوں کے خلاف کسی قسم کا تعصب نہیں کیا جانا چاہیے۔
.......
/169