ابنا: اتوار کي شام شمالي مغربي ايران کے صوبے مشرقي آذربائيجان ميں طلبا اور دانشوروں کے ايک گروپ سے بات چيت کرتے ہوئے صدر احمدي نژاد نے کہا کہ تسلط پسند طاقتيں اپني اقتصادي مشکلات کے حل کے لئے دنيا کے مختلف علاقوں ميں بدامني پھيلارہي ہيں تاکہ ان علاقوں کے عوام کي دولت لوٹ سکيں-
صدر احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں خطے کے ملکوں کے درميان اختلافات پيدا کرنے کي سازشوں کي جانب بھي اشارہ کيا اور يہ بات زور ديکر کہي کہ عالمي سامراجي طاقتيں قوموں کي دولت و ثروت کو لوٹنے کے لئے ان کے درميان اختلافات کے بيج بوتي چلي آرہي ہيں-
صدر نے براعظم افريقہ ، مشرق وسطي اور مشرقي بعيد کي صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تسلط پسند طاقتوں نے جمہوريت کے قيام کے نام پر مشرق وسطي ميں قدم رکھا تھا ليکن عراق اور افغانستان ميں سوائے بدامني کے کوئي نتيجہ نہيں نکلا-
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ آج دنيا ميں بيداري کي لہر پيدا ہوگئي ہے اور لوگ حقيقي معني ميں امن اور انصاف کے قيام کي جانب بڑھ رہے ہيں-
اس سے قبل صوبہ مشرقي آذربائيجان کے شہر تبريز ميں ايک عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر احمدي نے کہا تھا کہ تسلط پسند طاقتيں مختلف بہانوں سے ملت ايران پر سنگين دباؤں ڈال رہي ہيں- انہوں نے تسلط پسند طاقتوں کو مشورہ ديا کہ وہ ملت ايران کے حقوق کو تسليم کرليں کيونکہ ايراني عوام منطق، مذاکرات اور دوستي پر يقين رکھتے ہيں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
صدر احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں خطے کے ملکوں کے درميان اختلافات پيدا کرنے کي سازشوں کي جانب بھي اشارہ کيا اور يہ بات زور ديکر کہي کہ عالمي سامراجي طاقتيں قوموں کي دولت و ثروت کو لوٹنے کے لئے ان کے درميان اختلافات کے بيج بوتي چلي آرہي ہيں-
صدر نے براعظم افريقہ ، مشرق وسطي اور مشرقي بعيد کي صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تسلط پسند طاقتوں نے جمہوريت کے قيام کے نام پر مشرق وسطي ميں قدم رکھا تھا ليکن عراق اور افغانستان ميں سوائے بدامني کے کوئي نتيجہ نہيں نکلا-
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ آج دنيا ميں بيداري کي لہر پيدا ہوگئي ہے اور لوگ حقيقي معني ميں امن اور انصاف کے قيام کي جانب بڑھ رہے ہيں-
اس سے قبل صوبہ مشرقي آذربائيجان کے شہر تبريز ميں ايک عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر احمدي نے کہا تھا کہ تسلط پسند طاقتيں مختلف بہانوں سے ملت ايران پر سنگين دباؤں ڈال رہي ہيں- انہوں نے تسلط پسند طاقتوں کو مشورہ ديا کہ وہ ملت ايران کے حقوق کو تسليم کرليں کيونکہ ايراني عوام منطق، مذاکرات اور دوستي پر يقين رکھتے ہيں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲