28 اپریل 2013 - 19:30
اسلامی دنیا کی موجودہ صورت حال میں تقریب مذاہب اسلامی ایک سخت اور حساس کام ہے

حضرت آیت اللہ اراکی نے حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مرجع عالی قدر حضرت بشیر نجفی (دام ظلہ) کے درمیان ملاقات کے دوران تہران میں وحدت اسلامی کے موضوع پر ہونے والی چھبیسویں کانفرنس کی طرف اشارہ کیا اور اس میں آپ کی طرف سےبھیجے جانے والے نمائندہ کے لئے آپ کا شکریہ ادا کیا۔

ابنا: حضرت آیت اللہ اراکی نے حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مرجع عالی قدر حضرت بشیر نجفی (دام ظلہ) کے درمیان ملاقات کے دوران تہران میں وحدت اسلامی کے موضوع پر ہونے والی چھبیسویں کانفرنس کی طرف اشارہ کیا اور اس میں آپ کی طرف سےبھیجے جانے والے نمائندہ کے لئے آپ کا شکریہ ادا کیا۔

تقریب مذاہب اسلامی عالمی اسمبلی کے جنرل سکریٹری حضرت آیت اللہ محسن اراکی ایک وفد کے ساتھ بغداد میں وحدت اسلامی کے موضوع پرہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے عراق گئے ہیں، تاہم وہ عراق میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نجف اشرف گئے جہاں انہوں نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کی نیز وہاں کے تقریب بین مذاہب اسلامی عالمی اسمبلی کے دفتر کا دورہ کیا۔

۲۶ـ ۴ـ ۲۰۱۳کے جمعہ کی صبح کو یہ وفد نے مرجع عالی قدر حضرت بشیر نجفی (دام ظلہ) سے ملاقات کی جس میں آیت اللہ محسن اراکی نے تہران کی کانفرنس میں نمائندہ بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا نیز اس بین الاقوامی کانفرنس کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس میں زیر بحث آنے والے موضوعات من جملہ علماء مقاومت کمیٹی اور اسلامی دنیا کی مشکلات کو برطرف کرنے کے لئے صلح کمیٹی کے بننےکا ذکر کیا۔

حوزۂ علمیہ قم کے ممتاز استاد آیت اللہ اراکی نے اس کانفرنس کی کامیابی میں مراجع عظام کی طرف سے اس سلسلہ میں بھیجے جانے والے پیغامات کوکافی اثر انداز بتایا اور کہا: اس کانفرنس میں یہ طے پایا ہے کہ اسلامی دنیا کی صلح کمیٹی آئندہ تین ہفتوں میں اسلامی ممالک کے بحرانوں کا جائزہ لینے اور انہیں حل کرنے کی حکمت عملی پر غور کرنے کے لئے لبنان میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے گی۔

انہوں نے اس کمیٹی میں نجف اشرف کی طرف سے مراجع عظام کے نمائندوں کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب عالی سے بھی اس میں اپنا نمائند مقرر کرنے کی درخواست کی۔

اس ملاقات میں حضرت آیت الله العظمی بشیر نجفی (دام ظله) نے کہا: اسلامی دنیا کی موجودہ صورت حال میں تقریب مذاہب اسلامی ایک سخت اور حساس کام ہے۔

انہوں نے مختلف اسلامی ممالک من جملہ پاکستان، بحرین ، عراق، شام کی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج جبکہ اسلام دشمن عناصر شیعہ کشی کو اپنے مقصد کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں لہذا اسلامی جمہوریہ ایران کو پوری دنیا کے خاص طور پرپاکستان کے شیعوں کی حمایت کرنا چاہئے۔

پوری دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تئیں لوگوں کی محبتوں میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے لہذا وہاں کے عہدیدار افراد کو اسے خاص اہمیت دینا چاہئے۔

آخر میں انہوں نے اسلامی دنیا کی صلح کمیٹی میں اپنا خاص نمائندہ بھجینے پر رضامندی کا اظہار کیا اوراسلامی دنیا کی مشکلات کو برطرف کے سلسلہ میں آیت اللہ اراکی کے زحمتوں کی قدردانی کی نیز کہا:فرزند فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا عزیز رہبر کو میرا خاص سلام عرض کیجئے گا۔

.......

/169