ابنا: عالمی ادارہ مجلس تقریب مسالک اسلامی کے سربراہ نے حوزوی مراکزتقریب کونسل کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی مسالک کے مابین تقریب کی بنیاد امیر المؤمنین حضرت علی(ع) نے رکھی تھی ۔مختلف اسلامی مکاتب فکر کے درمیان تقریب کی کوشش سیرت ائمہ کی پیروی بالخصوص امیرالمؤمنین علی(ع) کی پیروی ہے۔ (اس لئے کہ ) آپ ؑ ہی نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نور کے مطابق مقدس شہر قم میں واقع تقریبی مطالعات تحقیقی مرکز کے کانفرنس ہال میں ’تقریب کا نیا مشن، چیلنجز اور مواقع‘ کے موضوع پر حوزوی مراکز تقریب کونسل کی چوتھی نشست منعقد ہوئی جسے مجمع تقریب کے جنرل سکریٹری آیت اللہ محسن اراکی نے خطاب کیا۔ آپ نے اپنی تقریر میں تقریب اور اتحاد کو زمانۂ غیبت میں علماء اور اس سے پہلے ائمۂ طاہرین ؑ کی کوششوں کا ماحصل قرار دیتے ہوئے کہا: ’’پیغمبراکرمﷺ کی وفات کے بعد ہی امت مسلمہ میں اختلاف کے حالات پیدا ہو گئے تھے لیکن حضرت امیرالمؤمنین علر(ع) نے اپنی خاموشی کے ذریعہ امت کو متحد رکھا۔ آپؑ کے بعد غیبت صغریٰ تک جملہ ائمہ طاہرینؑ کی یہی سیرت رہی ۔اس کے بعد سید مرتضیٰ اور شیخ طوسی جیسے بزرگ علماء نے بھی یہی طریقہ اپنایا‘‘۔
انہوں نے وضاحت کی امام جعفر صادق علیہ السلام کے درس میں مختلف مسالک اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف نظریات کے مالک افراد شرکت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اہل سنت کے اکابرین بھی اسی علمی مرکز سے نکلے ہیں۔ ہمارا مقصد اہل بیت علیہم السلام کی سنت اور سیرت کا احیا ہے ۔ یہ ایک اہم واجب ہے ۔ اس دوران بہت سے بزرگ اپنی حیثیت اور مقام کو خیرباد کہتے رہے ہیں تاکہ امت مسلمہ کی یکجہتی قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک امت مسلمہ کی تشکیل مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کا سب سے اہم مقصد ہے اور ہماری اسلامی حکومت اتحاد کے منصوبوں پر عمل پیرا ہوکر ذاتی یا سیاسی مفادات حاصل نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کام کو ایک واجب ذمہ داری سمجھتی ہے۔
تقریب مذاہب کے عالمی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کسی دور میں سعودی عرب میں مختلف مسالک کے درمیان آگ بھڑکائی جاتی تھی لیکن آج وہاں کا بادشاہ گفتگو بین المسالک کے مرکز کے قیام کا حکم دے رہا ہے۔ یہی تقریب بین المسالک ہے جو ہم اسلامی ممالک میں فروغ دینا چاہتے ہیں۔
آیت اللہ اراکی کا کہنا تھا کہ قائد انقلاب اسلامی کی اسلامی معاشرہ کے نئے تقاضوں کے مد نظر مجمع تقریب سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں ۔ (اس وقت) اسلامی حکومت، انقلاب اور اہل بیتؑ کے دشمن کہیں شیعت کا خوف اور کہیں اسلام کا خوف پھیلانا اور شیعہ اور سنی کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں۔
وہابیت کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ عراق، افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک میں مسلمانوں کا قتل عام ایک بڑا خطرہ اور خود اسلام کے لئے دھمکی ہے۔
مجمع تقریب مذاہب اسلامی کے جنرل سکریٹری نے اعلان کیا کہ رواں ماہ اردی بہشت کے اواخر (مئی) میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بین الاقوامی اسلامی امن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ ہماری نئی پلاننگ کے مطابق تقریب اب صرف گفتگو کی حد تک نہ رہے گی بلکہ اسے پروجیکٹ اور عملی اقدامات میں بدلا جائے گا۔ لبنان میں منعقد ہونے والا مذکورہ اجلاس جس میں اسلامی ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
حوزات علمیہ میں تقریب اور اتحاد کی ثقافت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا:
’’گذشتہ دو عشروں میں مجمع تقریب نے دو بنیادی کام کئے ہیں ؛ ایک تقریب اور اتحاد کی فکر کا احیا اور اسے تھیوری کی شکل دینا اور دوسرے اسے فروغ دینا اور نتیجہ تک پہونچانا۔ اس دوران ایسےگراں قیمت فکری جوہر پارے وجود میں لائے گئے ہیں جن کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی‘‘۔
نشست سے تقریبی مطالعات تحقیقی مرکز کے سربراہ حجۃ الاسلام مختاری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں اسلام پر دو رخی وار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’افسوس کی بات ہے کہ اس وقت ایک مسلم معاشرہ کا ایک حصہ سطحیت اور فکری جمود کا شکار اور اپنے اندر نئی روح پھونکے جانے کا محتاج ہے۔ اور دوسری طرف دشمن بھی اسلام کے فکری نظام کے مخالف ہیں ۔اس طرح کہ اسلامی معاشروں میں آئی دراڑیں عالمی استکبار کی اسلام دشمنی ہی کا نتیجہ ہیں‘‘۔
’’نوجوان نسل میں وہابی فکر کی دراندازی ہمارے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دشمن اصل اسلام کے خاتمہ کے لئے مادی اور روحانی دونوں طرح کے ذرائع استعمال کر رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے وضاحت کی کہ افریقہ، یوروپ، لاطینی امریکہ اور بہت سے ایشیائی ممالک وہابیت کی سرگرمیوں کی زد میں ہیں۔سعودی عرب اور قطر کی طرف سے مختلف رسائل و جرائد عوام تک پہونچائے جاتے ہیں جنہیں پڑھ کر کچھ نوجوان وہابی افکار کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ البتہ فکرِ اہل بیت (ع) کے سایہ پناہ لینے والے افراد بھی کم نہیں ہیں۔
حوازت علمیہ میں موضوع تقریب کو بنیادی حیثیت دیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مختاری نے کہا: ’’ یہ کام بنیادی سطح پر کیا جانا چاہئے تاکہ مستقبل میں تبدیلی لائی جا سکے‘‘۔ واضح ہو کہ آیت اللہ اراکی اور حجۃ الاسلام مختاری کی تقاریر کے بعد حوزوی مراکز تقریب کونسل کے دیگر اراکین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
.....
/169