25 اپریل 2013 - 19:30
مصر میں آمریت کے باقیات کو عدلیہ سے نکالنے کا مطالبہ

مصري عوام جہاں سابق ڈکٹٹير مبارک کے دور کے عدالتي حکام کو موجودہ عدليہ سے برخاست کرنے کا مظاہرہ کررہے ہيں وہيں ان کا مطالبہ يہ بھي ہے کہ قاہرہ ميں صہيوني حکومت کي تشکيل کي سالانہ تقريبات کے پروگرام کو منسوخ کرديا جائے۔

ابنا: مصرميں عدالتي محکموں سےسابقہ حکومت کے عہديداروں کو برخاست کئے جانے اور ساتھ ہي صہيوني حکومت کي تشکيل کي سالانہ تقريبات کا پروگرام منسوخ کئے جانے کے مطالبات شدت اختيار کرتے جارہے ہيں جبکہ جزيرہ نمائے سينا ميں تعينات ہونے کے لئے  امن محافظ کے دستے قاہرہ پہنچ گئے ہيں۔مصري عوام جہاں سابق ڈکٹٹير مبارک کے دور کے عدالتي حکام کو موجودہ عدليہ سے برخاست کرنے کا مظاہرہ کررہے ہيں وہيں ان کا مطالبہ يہ بھي ہے کہ  قاہرہ ميں صہيوني حکومت کي تشکيل کي سالانہ تقريبات کے پروگرام کو منسوخ کرديا جائے۔مصر کي انقلابي کونسل کے جنرل سکريٹري صفوت حجازي نے صدر مرسي سے کہاہے کہ مصر کي عدالتوں ميں مبارک دور کے ججوں اور ديگر عہديداروں کو برطرف کرکے ان پر انقلابي عدالت ميں مقدمہ چلائيں کيونکہ فاسد عناصر اور اسي طرح حسني مبارک کے بيٹوں پر ان عدالتوں ميں جن ميں خود مبارک کے مقرر کردہ جج موجود ہيں مقدمہ منصفانہ طريقے سے مقدمہ نہيں چلايا جاسکتا۔صفوت حجازي نے اسي طرح عدالتي حکام اور حسني مبارک کے باقيات کو عدليہ اور اطلاع رساني کے شعبے سے مکمل طور پر باہر نکالے جانے کا مطالبہ کيا۔مصر کي انقلابي تنظيم چھ اپريل کے ترجمان خالد المصري نے بھي کہا کہ ہر حال ميں عدليہ کو خود مختار بنايا جانا چاہئے انہوں نے بھي مطالبہ کيا کہ حسني مبارک کي باقيات اور عدالتوں ميں اس کے مقرر کردہ ججوں اور عہديداروں کو برطرف کيا جائے انہوں نے ساتھ ہي يہ بھي کہا کہ اس مسئلے کو سياسي رنگ دينے سے بچانے کے لئے حکومت کو مداخلت سےگریز کرنا چاہئے۔دوسري طرف مصر کے وزير اعظم ہشام قنديل کو ان کے عہدے پر باقي رکھا گيا ہے ۔مصري صدر کے ترجمان ايہاب فہمي نے اس سلسلے ميں کہا کہ کابينہ ميں رد وبدل کے عمل ميں خود وزير اعظم ہشام قنديل اپنے عہدے پر باقي رہيں گے۔صدراتي ترجمان نے کہاکہ ايوان صدر نے ملک کي سبھي سياسي جماعتوں منمجلہ نيشنل سالويشن فرنٹ سے رابطہ کيا ہے کہ وہ کابنيہ ميں اپني پسند کے وزيروں کو بھيجنے کے لئے ناموں کا اعلان کريں اور ساتھ ہي گورنروں کے انتخاب ميں بھي لوگوں کا نام پيش کريں۔  ايک اور خبر يہ ہے کہ قاہرہ ميں صہيوني حکومت کے سفارتخانے کي کوئي عمارت نہيں ہے اس لئے اس بار قاہرہ ميں صہيوني حکومت کي غاصبانہ تشکيل کي سالانہ تقريبات کا پروگرام منسوخ ہوگيا ہے اور مصري عوام نے بھي کہا ہے کہ وہ کسي بھي مقام پر ان تقريبات کے انعقاد کے مخالف ہيں۔صہيوني حکومت کے ريڈيو نے خبردي ہے کہ ابھي تک قاہرہ ميں اسرائيلي سفارتخانے کے لئے کوئي عمارت معين نہيں ہوسکي ہے ستمبر دوہزار گيارہ ميں قاہرہ ميں اسرائيلي سفارتخانے پر مصري نوجوانوں کے حملے سے قبل غاصب صہيوني حکومت کي تشکيل کا سالانہ جشن اس کے سفارتخانے ميں منايا جاتا تھا جس ميں مصر کي سياسي شخصيات بھي شرکت کيا کرتي تھيں۔  دريں اثنا يہ بھي اطلاعات ہيں کہ جزيرہ نمائے سينا ميں تعينات ہونے کے لئے امن محافظ فوج کا دوسرا دستہ قاہرہ  پہنچ گيا ہے۔اقوام متحدہ کا امن محافظ دستہ جمعرات کو ميڈرڈ سے قاہرہ پہنچا - انچاس فوجيوں پر مشتمل امن محافظ فوج کا دوسرا دستہ قاہرہ سے سينا کے لئے روانہ ہورہا ہے اس سے پہلے امن محافظ فوج کا  پہلا دستہ پچھلے اتوار کو قاہرہ پہنچاتھا -صحرائے سينا ميں انيس سو بياسي سے جب مصر اور اسرائيل کے درميان شرمناک کيمپ ڈيوڈ معاہدہ ہوا تھا امن محافظ فوجي تعينات ہيں۔ اس فوج ميں دنيا کے مختلف ملکوں کے فوجي شامل ہوتے ہيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲