ابنا: ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے تہران میں کیسپیئن سی کے کنونشن کی تدوین کے خصوصی ورکنگ گروپ کے بتیسیویں اجلاس میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کیسپیئن سی کو باہمی احترام اور تمام ملکوں کے اس کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے پر مبنی تعاون کے لیے ایک میدان سمجھتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کیسپیئن سی سے متعلق تمام فیصلوں میں اتفاق رائے کو ضروری سمجھتا ہے اور اس کے بارے میں پائے جانے والے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات جاری رہنے سے کیسپیئن سی کی قانونی حدود کے کنونشن کی تدوین کا کام جلد از جلد مکمل ہو جائے گا۔علی اکبر صالحی نے اس اجلاس کے موقع پر ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی اپنے بیان میں سچے ہوں تو ایران بھی ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلماتی مذاکرات میں طے پایا تھا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ محترمہ کیتھرین ایشٹن چھ ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے بعد ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی کو اس کے نتیجے سے آگاہ کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو وعدے کرتے ہیں ان میں سچے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
22 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 412212
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کیسپیئن سی کے تمام ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے۔