21 اپریل 2013 - 19:30
ہم اپنے خون سے وطن میں بہار لائیں گے: علامہ ناصر عباس جعفری

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا شہادت ہماری کمزوری کا نہیں بلکہ ہماری طاقت کا نام ہے۔ ہم اپنے خون کی طاقت سے مادر وطن کی فضاء کو بہار میں بدلیں گے، ناامنی کی فضاء کو امن کی بہار سے بدلیں گے، نفرتوں کی فضاء کو محبتوں کی بہار سے بدلیں گے، تفرقہ کی فضاء کو وحدت کی بہار سے بدلیں گے۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی کے نشتر پارک میں لبیک یا حسین (ع) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  شہادت ہماری کمزوری کا نہیں بلکہ ہماری طاقت کا نام ہے۔ ہم اپنے خون کی طاقت سے مادر وطن کی فضاء کو بہار میں بدلیں گے، ناامنی کی فضاء کو امن کی بہار سے بدلیں گے، نفرتوں کی فضاء کو محبتوں کی بہار سے بدلیں گے، تفرقہ کی فضاء کو وحدت کی بہار سے بدلیں گے۔ پاکستانی عوام شروع دن سے ظلم و ناانصافی کی چکی میں پس رہی ہے، ان پر ظالمانہ و فاسد نظام مسلط ہے، ہم عوام کو اس نظام سے نجات دلانے کیلئے اٹھے ہیں۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا ہم فرقہ وارانہ سوچ کے حامل نہیں ہیں، ہماری سوچ وطن و انسانیت سے محبت کی سوچ ہے۔ ہم مظلوموں و محروموں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، نفرتوں کے خاتمہ، وطن کو دہشت گردی سے آزاد کرانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مادر وطن کے باوفا بیٹے ہیں۔ ہم اس وطن میں ہر قسم کی داخلی لڑائی اور بیرونی مداخلت کو سنگین نقصان سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں امریکہ سمیت عالمی قوتوں کی مداخلت، پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی، بے گناہوں پر ڈرون حملوں سمیت ہر قسم کے حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 35 سال سے ایک جہنمی اتحاد (coalition) وجود میں آیا ہوا ہے۔ اس میں آمر ضیاء کے زمانے کی اسٹیبلشمنٹ کا تسلسل، امریکہ اور بعض خائن عرب ممالک اور پاکستان کے اندر موجود انتہا پسند، بھتہ خور، فاشسٹ، مذہبی جنونی طبقہ شامل ہے۔ ان طبقوں نے مل کر اس وطن کو بحرانوں کا شکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ جہنمی اتحاد باقی رہے گا یہ وطن مشکلات سے نہیں نکل سکتا۔ لہٰذا ان کے خلاف مظلوموں کا محاذ بنانا ہے۔ ان نامحرموں سے مادر وطن کو ازاد کرا کر حقیقی فرزندوں کے حوالے کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی صفوں میں مزید وحدت پیدا کرنی ہے، گلی گلی، کوچہ کوچہ جانا ہو گا، مظلوموں کو جمع کرنا ہوگا، انہیں حوصلہ دینا ہو گا کہ گھبرانا نہیں، یہ ظالم بہت کمزور اور بزدل ہیں، مظلوموں کی وحدت کی طاقت سے ظلم کے ہر ایوان کو گرایا جا سکتا ہے۔ یہ ہمیں تقسیم رکھنا چاہتے ہیں، ٹکڑوں میں بانٹ کے رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم ان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہم ان انتہاء پسند قوتوں سے بھی کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اس وطن کی تباہی میں شامل نہ کرو، واپس آجاﺅ، لوٹ آﺅ وطن کی خدمت کیلئے۔ غیروں کی نوکری چھوڑ دو، وطن کے خادم بن جاﺅ۔ منافقت چھوڑ دو، یہ راستہ صرف اور صرف گمراہی و بدنامی اور جہنم کی طرف جاتا ہے، اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کا قتل، وطن کو نقصان پہنچانا حرام ہے، گناہ ہے۔ وطن میں تفرقہ و فرقہ واریت پھیلانا گناہ ہے، حرام ہے۔ وطن میں دہشت گردی کرنا گناہ ہے، حرام ہے۔ ہر وہ کام جس سے وطن کو نقصان پہنچے وہ گناہ ہے، حرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ ہماری سیاسی طاقت و شناخت ہی نہ ہو، ہم اس کی خواہش کو پوری نہیں ہونے دیں گے اور اپنی سیاسی شناخت کے ساتھ میدان میں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ محب وطن معتدل قوتوں کو ووٹ دینا ہے، دہشت گردوں و بھتہ خوروں کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو ووٹ دینا ہے، قاتلوں و فاشسٹ عناصر کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو ووٹ دینا ہے، مظلوموں کے حامیوں کو ووٹ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے پاکیزہ خون سے عہد وفا کرنا ہے، اب گھروں پر نہیں بیٹھنا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہم پرامن اور عوامی جدوجہد پر ایمان رکھتے ہیں۔ انشاء اللہ وطن کے تمام مظلوموں کو ساتھ ملا کر چاہئے وہ مسلم ہو، غیر مسلم ہو، سکھ ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو، کوئی بھی ہو ، وہ پاکستانی ہمارا بھائی ہے، ہم اس کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ سب کو ساتھ ملا کر پاکستان کی دھرتی سے ظلم مٹا کر عدل کو نافذ کرکے پاکستان میں ہر ایک کیلئے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرینگے اور انشاء اللہ یہ دن ضرور آ کر رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲