20 اپریل 2013 - 19:30
سعودی عرب میں اسلامی آثار کو مٹانے کا پروانہ جاری

سعودی حکام ہرسال کروڑوں ریال خرچ کر کے ’’الجنادریہ‘‘ فیسٹیول مناتے ہیں کہ جس میں ناچ گانے کے ساتھ ساتھ اپنی موص۱ص رسومات کو انجام دیتے ہیں اس بہانہ کے ساتھ کہ ہم اپنی ثقافتی میراث کا تحفظ کر رہے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ حال ہی میں وہاں کے مفتی اعظم نے حرمین شریفین کو وسعت دینے کا بہانہ بنا کر فتویٰ دیا ہےکہ مکہ مکرمہ میں موجود تمام اسلامی آثار کو محو کرنے کی اجازت ہے۔

ابنا: سعودی حکام ہرسال کروڑوں ریال خرچ کر کے ’’الجنادریہ‘‘ فیسٹیول مناتے ہیں کہ جس میں ناچ گانے کے ساتھ ساتھ اپنی موص۱ص رسومات کو انجام دیتے ہیں اس بہانہ کے ساتھ کہ ہم اپنی ثقافتی میراث کا تحفظ کر رہے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ حال ہی میں وہاں کے مفتی اعظم نے حرمین شریفین کو وسعت دینے کا بہانہ بنا کر فتویٰ دیا ہےکہ مکہ مکرمہ میں موجود تمام اسلامی آثار کو محو کرنے کی اجازت ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نور کی رپورٹ کے مطابق ’’عبد العزیز بن عبدللہ آل شیخ ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ حرمین شریفین میں موجود تمام آثار کو نہ صرف مٹانا جائز ہے بلکہ ضروری ہے۔

انہوں نے اسلامی اور تاریخی آثار کو ’’اشیاء‘‘ کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وسعت کے لئے ان اشیاء کو ختم کرنا ضروری ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مکہ اور مدینہ میں بچے کھچے اسلامی آثار کو مٹانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کئی برسوں سے میراث ثقافتی کے عنوان سے ہر سال منائے جانے والے ناچ گانے کا فیسٹیول دینی پلیس اور قومی سلامتی دستوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کافی تنقید کا نشانہ بنتا آرہا ہے۔

سعودی حکام نے پچھلے دس برسوں سے مکہ مکرمہ کے اسلامی آثار کومٹانا شروع کر رکھا ہے جیسے پیغرنہ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام ولادت کو کتب خانہ میں بدل دیا ہے ، جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے گھر کو گرا کر اس کی جگہ پر عمومی بیت الخلا بنا دیا ہے، صدر اسلام کے جنگی میدانوں من جملہ میدان جنگ بدر کو گاڑیاں کیلئے پارک کرنے کی جگہ بنا دیا ہے۔

حکام مذہبی سفروں کی صنعت میں لازمی وسعت کی آڑ میں اسلامی آثار کو محو کر رہے ہیں اس لئے کہ یہ صنعت ان کے لئے بہت بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے کہ جس میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

مختلف ذرایع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ۹۵ فیصد سیکڑوں سال پرانی عمارتیں گزشتہ دو دہایوں میں مسمار کی جاچکی ہیں اور سعودی حکام کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں شہرمیں تعمیراتی کام کا حصہ ہیں اور حجاج کے فائدہ میں ہیں۔

انہوں نے مکہ کے علاوہ مدینہ کی توسیع خاص طور پر مسجد النبی اور آپ کے روضۂ مبارک کے لئے بھی منصوبہ بنا رکھاہے۔

سعودی عرب میں جاری غیر محسوس اسلام دشمن سیاست کے خلاف عالم اسلام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔حال ہی میں عالم اسلام کے ممتاز مفسر قرآن اور ایک مرجع تقلید حضرت آيت اللہ مکارم شیرازی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام کو جان لینا چاہئے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور حرمین شریفین آپ کی ذاتی ملکیت نہیں ہے جس طرح آپ کا جی چاہے سلوک روا رکھ سکتے ہیں ؟یہ مقامات خدا کی ملکیت اور یہ ملک تمام مسلمانوں کا ہے۔

آيت اللہ مکارم شیرازی نے مذید کہا:ایک دن آنا چاہئے کہ جب اسلامی کانفرنس تنظیم کی طرف سے ایک جماعت منتخب کی جائے جو کہ حرمین شریفین کی نظارت سنبھالیں۔

.....

/169