ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے جہلم میں ایم ڈبلیو ایم شعبہ جوانان اور خواتین کے زیراہتمام منعقدہ ’’شیعہ یوتھ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اور سماجی طاقت کے توازن کو ضیاءالحق جیسے ڈکٹیٹر کے زمانے میں بگاڑا گیا۔ جو بھی شدت پسندی اور دہشگردوں کو روکنے میں کردار ادا کرسکتا ہے وہ ہمارا اسٹرٹیجیکل ساتھی بن سکتا ہے
اس موقع پر ایک بڑی تعداد میں عوام اور دیگر مکاتب فکر کے علماء نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین بھی خاصی تعداد میں موجود تھیں۔ مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل سکینہ مہدوی نے بھی خطاب کیا۔ خصوصی خطاب میں علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور سماجی طاقت کے توازن کو ضیاءالحق جیسے ڈکٹیٹر کے زمانے میں بگاڑا گیا۔ جس کا نتیجہ شدت پسندی اور بعض شدت پسند گروہوں کی ان نیچرل گورتھ کی شکل میں نکلا اور آج تک ہم اسی غیر طبیعی طاقت کے تشدد کا شکار ہیں، جس کے سبب ملک میں دہشگردی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دہشتگردی میں سب سے زیادہ متاثرہ مکتب تشیع اور سنی بھائی ہیں۔ جس کی مثال پیروں اور اولیاء کے مزارات پر حملے اور عام سنی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ ہے جبکہ دوسری جانب یہی ان نیچرل گروتھ ملکی اہم تنصیبات پر حملے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگرچہ مذہب کی بنیاد پر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن ہمارا کام ہمارا مشن صرف کسی خاص مذہب کے لئے نہیں بلکہ اہل وطن کے لئے ہے اور ہر مظلوم کے لئے ہے۔ ہم ملک میں بلاتفریق مذہب، عقیدہ رنگ و نسل تمام پاکستانیوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ملک کے مظلوموں کے حق میں کوئی نہیں بولتا، ہم ان حالات میں سرزمین وطن کا قرض اتارنا چاہتا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال پہلے جو قافلہ چلا تھا آج وہ بہت طاقتور ہوچکا ہے۔ تین سال قبل خوف تھا، ڈر تھا، مایوسی تھی۔ آج ہمت ہے، طاقت ہے، عزم و حوصلہ ہے۔ مایوسی کے بادل چھٹ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مادر وطن ہم سب کی میراث ہے۔ ہم سب کو اس کی ترقی و تعمیر میں برابر اور ہمہ جانبہ ہاتھوں میں ہاتھ دیکر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ کرپٹ لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ اس ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ملک کی باگ ڈور انہیں ہاتھوں میں لینا چاہیے جو اس ملک سے وفا کریں۔ انہوں نے ملک کو عالمی طاقتوں کی آماجگاہ بنا دیا، ڈرون حملے روز ہوتے ہیں لیکن یہ بولتے نہیں ہیں۔ اتنی ساری فورسز کس لئے ہیں؟
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امریکیوں کو کیوں یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کریں۔ یاد رکھیں، ہمارا دشمن مکار اور فریب کار ضرور ہے لیکن بزدل اور ڈرپوک بھی ہے۔ ہم بہادر ہیں، اگر ہم بزدل ہوتے تو کبھی مظلوموں کو امام نہ مانتے بلکہ طاقتور لوگوں کے پیچھے چلتے۔ ہم اگر بزدل ہوتے تو مظلوموں کے بجائے ظالموں کے کیمپ میں کھڑے نظر آتے۔ انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ جن کے اپنے ملک میں کبھی الیکشن نہیں ہوتا وہ ہمارے الیکشن کو خریدنا چاہتے ہیں۔ ملک میں جو بھی شدت پسندی اور دہشگردوں کو روکنے میں کردار ادا کرسکتا ہے، وہ ہمارا اسٹرٹیجیکل ساتھی بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
اس موقع پر ایک بڑی تعداد میں عوام اور دیگر مکاتب فکر کے علماء نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین بھی خاصی تعداد میں موجود تھیں۔ مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل سکینہ مہدوی نے بھی خطاب کیا۔ خصوصی خطاب میں علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور سماجی طاقت کے توازن کو ضیاءالحق جیسے ڈکٹیٹر کے زمانے میں بگاڑا گیا۔ جس کا نتیجہ شدت پسندی اور بعض شدت پسند گروہوں کی ان نیچرل گورتھ کی شکل میں نکلا اور آج تک ہم اسی غیر طبیعی طاقت کے تشدد کا شکار ہیں، جس کے سبب ملک میں دہشگردی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دہشتگردی میں سب سے زیادہ متاثرہ مکتب تشیع اور سنی بھائی ہیں۔ جس کی مثال پیروں اور اولیاء کے مزارات پر حملے اور عام سنی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ ہے جبکہ دوسری جانب یہی ان نیچرل گروتھ ملکی اہم تنصیبات پر حملے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگرچہ مذہب کی بنیاد پر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن ہمارا کام ہمارا مشن صرف کسی خاص مذہب کے لئے نہیں بلکہ اہل وطن کے لئے ہے اور ہر مظلوم کے لئے ہے۔ ہم ملک میں بلاتفریق مذہب، عقیدہ رنگ و نسل تمام پاکستانیوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ملک کے مظلوموں کے حق میں کوئی نہیں بولتا، ہم ان حالات میں سرزمین وطن کا قرض اتارنا چاہتا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال پہلے جو قافلہ چلا تھا آج وہ بہت طاقتور ہوچکا ہے۔ تین سال قبل خوف تھا، ڈر تھا، مایوسی تھی۔ آج ہمت ہے، طاقت ہے، عزم و حوصلہ ہے۔ مایوسی کے بادل چھٹ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مادر وطن ہم سب کی میراث ہے۔ ہم سب کو اس کی ترقی و تعمیر میں برابر اور ہمہ جانبہ ہاتھوں میں ہاتھ دیکر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ کرپٹ لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ اس ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ملک کی باگ ڈور انہیں ہاتھوں میں لینا چاہیے جو اس ملک سے وفا کریں۔ انہوں نے ملک کو عالمی طاقتوں کی آماجگاہ بنا دیا، ڈرون حملے روز ہوتے ہیں لیکن یہ بولتے نہیں ہیں۔ اتنی ساری فورسز کس لئے ہیں؟
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امریکیوں کو کیوں یہ جرات ہو رہی ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کریں۔ یاد رکھیں، ہمارا دشمن مکار اور فریب کار ضرور ہے لیکن بزدل اور ڈرپوک بھی ہے۔ ہم بہادر ہیں، اگر ہم بزدل ہوتے تو کبھی مظلوموں کو امام نہ مانتے بلکہ طاقتور لوگوں کے پیچھے چلتے۔ ہم اگر بزدل ہوتے تو مظلوموں کے بجائے ظالموں کے کیمپ میں کھڑے نظر آتے۔ انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ جن کے اپنے ملک میں کبھی الیکشن نہیں ہوتا وہ ہمارے الیکشن کو خریدنا چاہتے ہیں۔ ملک میں جو بھی شدت پسندی اور دہشگردوں کو روکنے میں کردار ادا کرسکتا ہے، وہ ہمارا اسٹرٹیجیکل ساتھی بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲