ابنا: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعہ کو شمالی کوریا کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ جبکہ جنوبی کوریا نے کہا ہے پیانگ یانگ اشتعال انگیزی ترک کرکے عالمی برادری میں شامل ہو۔ قبل ازیں امریکہ نے شمالی کوریا کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی، بشرطیکہ شمالی کوریا اپنا متنازعہ جوہری پروگرام ترک کر دے۔ اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری پچھلے ہفتے خطے کے دورے پر تھے، جس کے اختتام پر رواں ہفتے ہی پیر کو انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ جزیرہ نما کوریا کی کشیدہ صورتحال کے سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔ ادھر امریکہ نے شمالی کوریا کی جانب سے مشروط مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے اجلاس میں شمالی کوریا سے متعلق اپنا موقف پیش کیا۔ جان کیری نے کہا کہ ہم شمالی کوریا کی کوئی شرط تسلیم نہیں کریں گے مگر ان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور شرائط پر غور ضرور کریں گے کیونکہ شمالی کوریا نے پہلی بار مذاکرات کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرائط قبول نہیں مگر ہم اس سے آگے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ضد اور منفی سوچ کو ختم کرے۔ جان کیری نے کہا کہ فوجی حملے کی دھمکیاں دینے کے بعد شمالی کوریا کی طرف سے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار ایک مثبت علامت ہے۔ ساتھ ہی جان کیری نے نشاندہی کی کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے شمالی کوریا کو انعامات دینے کی پالیسی تبدیل کی جانی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
19 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 411094
جنوبی کوریا اور امریکہ نے شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات کے لئے پیش کی گئی شرائط کو مسترد کر دیا۔