ابنا: افغان صدر حامد کرزئي نے يہ بيان افغانستان کے صدارتي دفتر کے مشيروں کے ساتھ مذکورہ معاہدے کا جائزہ لينے کے دوران ديا –افغان صدر حامد کرزئي نے کہا کہ ہماري حکومت کو امريکا کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرنے کي کوئي جلدي نہيں ہے- انہوں نےکہا کہ ہماري کوشش ہے کہ افغان عوام کے مفادات منجملہ افغانستان کي سلامتي ، قومي وفاق ، اقتدار اعلي اور افغان سيکورٹي فورس کي تقويت کا اس معاہدے ميں خاص لحاظ رکھا جائے-
افغان صدر حامد کرزئي نے ملک کے آئندہ صدارتي انتخابات کے بارے ميں کہاکہ يہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے - افغان صدر نے اپنے ملک سے غير ملکي افواج کے نکل جانے کے بعد ملک ميں خانہ جنگي شروع ہو جانے سے متعلق افواہوں کے بارے ميں کہا کہ يہ مغربي ملکوں کا محض پروپيگنڈہ ہے- انہوں نے کہا کہ يہ پروپيگنڈہ افغانستان کے عوام اور حکومت کو غير ملکي فوجوں سے وابستہ کرنے کے لئے کيا جارہا ہے -واضح رہے کہ افغانستان اور امريکا کے درميان سيکورٹي معاہدے کا موضوع گذشتہ دوسال سے زير بحث ہے -افغانستان ميں باقي رہ جانے والي امريکي فوجيوں کو عدالتي استثناء دينے کا موضوع دونوں ملکوں کے درميان اختلاف کا ايک بڑا موضوع ہے - افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے کہا ہے کہ وہ امريکي فوجيوں کو عدالتي استثنا دينے يا نہ دينے معاملے کو ووٹنگ کے لئے لويہ جرگہ ميں پيش کريں گے-
.....
/169