ابنا: خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست اوہایو کی مسجد کو آگ لگانے والے ۵۲سالہ رانڈولف لین کو بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔قابل ذکر ہے اس شخص نے اس مسجد میں موجود ایک قالین کو آگ لگا کر پوری مسجد کو آگ لگانے کا اقدام کیا تھا۔اس کیس کے جج اسٹیون ڈٹلباچ نے اپنے بیانیے میں کہا ہے کہ نفرت کے جذبے سے ہونے والے اقدامات لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں اسی بنا پر اس مجرم کو بیس سال قید کی سزا سنانا اور اپنے ہم وطن مسلمان بھائیوں کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری آزادی اس شخص کی اسلام سے نفرت سے کہیں قوی ومستحکم اور بالاتر ہے۔یاد رہے کہ رانڈولف لین نے ۳۰ستمبر۲۰۱۲ء کو اوہایو کی مسجد کو آگ لگانے کی غرض سے اینڈیانا ریاست میں موجود اپنے گھرکو ترک کیا تھا۔اس کی گاڑی میں آگ لگانے والا مواد اور تیل کی بوتلیں تھیں اور اس نے کئی مرتبہ مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اورآخرکارمسجد میں داخل ہو کر اس میں پڑے ہوئے قالین کو آگ لگا دی تھی۔عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ لین پر لازمی ہے کہ وہ اس مسجد پر حملے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے کہ جس کی قیمت دس لاکھ ڈالر لگائی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
17 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 410496
امریکی ریاست اوہایو کی مسجد کو آگ لگانے والے ۵۲سالہ رانڈولف لین کو بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔