ابنا: امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سیدوسیم اختر سابق ایم پی اے و ڈپٹی پارلیمانی لیڈر امیدوار این اے 185،پی پی 271نے عباس کالونی میں کارنرمیٹنگ سے خطاب کرتے ہوئےکہاکہ ہم پاکستان میں اسلامی نظام لاناچاہتے ہیں۔ یعنی رائے عامہ کو اسلام کے حق میں بیدار کیا جائے ہمارا راستہ تشدداورسازش کا راستہ نہیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے جمہوری عمل کو اپنایا جائے۔ پاکستان اسلامی ملک ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کےلئے تحفہ ہے مگر افسوس اس میں اللہ کے احکامات پرعمل نہیں کیاجاتا ملک ہمارا ہے اور انگریزی قانون رائج ہے ہماری آزادی کرپٹ سیاستدانوں نے امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دی ہے ملک کی پالیسیاں امریکہ ترتیب دیتا ہے حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے بھیک مانگ کرخود مختاری اور عزت نفس کو مجروح کیا ہے۔ ہمارے آئین میں دفتری زبان اردو مگر انگریزی زبان رائج ہے عدالتوں میں فیصلے انگریزی زبان میں ہوتے ہیں قرضوں سے ملک چلایا جارہا ہے۔ ایک ڈالر کے عوض15ڈالر سود ادا کرناپڑتا ہے۔
انہوں نےکہاکہ پاکستان کے آئین میں حاکمیت اللہ کی ہے مگرحکمران امریکہ کے غلام ہیں ہمیں امریکی غلامی سے آزادی چاہیے اور یہ اس وقت ہوگا جب ہمارے حکمران ایمانداراور نیک کردار کے حامل ہونگے۔ عوام کو چاہئے کہ ووٹ کی طاقت سے کرپٹ اور کرپشن مافیا کے نمائندوں کومسترد کرکے نیک افراد کو منتخب کرے۔ جماعت اسلامی کی قیادت پڑھی لکھی، محب وطن اور بے داغ کردار کی حامل ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آتے ہی ملکی وسائل پرانحصارکرکے عوام کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلائے گی بہاولپور کو صوبہ بناکر بیروزگاری کے خاتمہ کےلئے انڈسٹریز لگائے گی۔
ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزیدکہاکہ سابقہ حکمرانوں نے جوتحفے دیے ہیں وہ آسیب بنے عوام کو نگل رہے ہیں لہذا عوام ہوش کے ناخن لیں اور چہرے بدل کے آنے والوں کونہیں بلکہ نیک اور باکردار نمائندوں کو منتخب کریں جو عوام اور ملک کوبحران سے نکال کرترقی کی راہ پرچلاسکیں۔
.......
/169