14 اپریل 2013 - 19:30
افغانستان ميں نيٹو کي خودسري پر اعتراض

افغانستان کے صدارتي دفتر نے نيٹو اور امريکا پر الزام لگايا ہے کہ وہ صدر حامدکرزئي کے حکم کو نظر انداز کررہے ہيں - افغانستان کے ايوان صدر نے اپنے جاري کردہ بيان ميں غير ملکي فوجيوں پر اس بات کو لے کر تنقيد کي ہے کہ وہ رہائشي علاقوں پر حملے نہ کرنے کے صدر کے حکم کو نظر انداز کررہے ہيں.

ابنا: افغانستان کے ايوان صدر نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ صدر حامد کرزئي نے صوبہ کنڑ ميں نيٹو کے حملے ميں مارے  گئےعام شہريوں کي رپورٹ دريافت کرنے کے بعد رہائشي علاقوں پر حملے نہ کرنے کے حکم کو  نيٹو فوج کي طرف سے نظر انداز کئے جانے پر تنقيد کي ہے -

افغانستان کے صدر کے  دفتر کے سينئر  عہديدار شجاع الملک نے جو ايک ٹيم کے ہمراہ ايوان صدر کي طرف سے کنڑ کے واقعے کا جائزہ لينے کے لئے وہاں گئے تھے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ امريکي فوجيوں نے اپنے ايک فوجي ايڈوائزر کي لاش کو کنڑ ميں منتقل کرنے کے لئے اس علاقے پر حملہ کيا تھا –

اس حملے ميں بہت سے رہائشي مکانات تباہ ہوگئے تھے جبکہ سترہ  خواتين اور بچے  مارے گئے تھے- حملے ميں بارہ بچے بري طرح زخمي بھي ہوئے تھے -  افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے اس سے پہلے بھي افغانستان کے رہائشي علاقوں پر امريکا اور نيٹو کے ہوائي حملوں کي شديد مخالفت کي تھي –
افغانستان ميں نيٹو اور امريکا کے ہوائي حملوں سے افغان عوام ميں امريکا کے تئيں شديد نفرت پائي جارہي ہے –

.....

/169