ابنا: ہم آپ کے شکر گزار ہیں جو آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا ہے، پہلا سوال ہمارا یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شخصیت کی ایک جامع تعریف کیجئے۔آیت الله علوی گرگانی: بسم الله الرحمن الرحيم. الحمدلله، والصلاة و السلام علي رسول الله وعلي آله آل الله، و اللعن الدائم علي اعدائهم اعداء الله.کسی شخصیت یا کسی چیز کو پہچنوانے کے لیے ضروری ہے کہ خود انسان اس شخص یا چیز سے بالاتر منزل میں ہو یا دوسرے الفاظ میں یوں کہوں کہ معرِّف کو چاہیے کہ معرَّف سے اعلی اور اعرف ہو۔ یہ قاعدہ علم منطق و فلسفہ کے مسلمہ اصول میں سے ہے۔ اس کہ وجہ بھی یہ ہے کہ اگر تعریف کرنے والا اس چیز سے بالاتر منزل میں نہ ہو جس کی تعریف کر رہا ہے، اس کی تمام خصوصیات اور صفات سے آشنا نہ ہو تو کما حقہ اس کی تعریف نہیں کر پائے گا اس کو صحیح معنی میں نہیں پہچنوا پائے گا۔ اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "تَفَكَّرُوا فِي آلاءِ اللَّه وَ لا تَتَفَكَّرُوا فِي ذاتِ اللَّه"(1)؛ ( اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو لیکن اس کی ذات کے بارے میں غور و فکر نہ کرنا) یا امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "إِيَّاكُمْ وَ التَّفَكُّرَ فِي اللَّهِ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ فِي اللَّهِ لا يَزِيدُ إِلا تَيْهاً إِنَّ اللَّهَ لا تُدْرِكُهُ الابصَارُ وَ لا يُوصَفُ بِمِقدار۔(۳) ( خبردار اللہ کی ذات میں تفکر نہ کرنا چونکہ اللہ کی ذات میں غور و فکر کرنے سے سوائے حیرت اور سرگردانی کے کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔اس لیے کہ نگاہیں اسے درک نہیں کر سکتیں اور کسی مقدار اور اندازے سے اس کی توصیف نہیں ہو سکتی یعنی اس کی توصیف کی کوئی مقدار معین نہیں ہے۔) "ان الله قد احاط بکل شیء علماً"(3).( بیشک خدا علم کے اعتبار سے ہر چیز پر مکمل احاطہ رکھتا ہے)۔اس مقدمہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ، حضرت فاطمہ زہرا (س) اور ائمہ معصومین (ع) کی نسبت ہماری معرفت کا یہی حال ہے۔ یعنی یہ شخصیات ہماری نسبت مکمل علم رکھتی ہیں لیکن ہماری شناخت ان کی نسبت کچھ بھی نہیں۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «يا علي! لايعرف اللّه تعالي الا انا و انت و لايعرفني الا اللّه و انت و لا يعرفک الا اللّه و انا(۵) اے علی میرے اور آپ کے علاوہ اللہ کو کسی نہیں پہچانا۔ آپ کے اور خدا کے علاوہ مجھے کسی نے نہیں پہنچانا اور آپ کو اللہ اور میرے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا۔ پیغمبر اکرم (ص) کی یہ تعبیر تکلف نہیں ہے مذاق نہیں ہے۔ حقیقت اور واقعیت ہے یعنی اگر ان شخصیات کی تعریف کرنا مقصود ہو تو خود انہیں سے ایسا سوال کیا جائے۔ وہی یہ کام کر سکتے ہیں۔لہذا ہم خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ فاطمہ زہرا (س) کی شخصیت کو ہمیں پہنچنوا دیجیے۔ نہ مجھ سے یہ سوال کریں جس کے پاس اس دریائے علم کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔ پس اگر حضرت فاطمہ زہرا (س) کی تعریف مقصود ہو تو آپ کے والد بزرگوار پیغمبر اکرم (ص) یا آپ کے شوہر نامدار حضرت علی مرتضیٰ (ع) سے یا خود خدوند عالم سے یہ سوال کرنا پڑے گا۔ ہمیں ان کی بارگاہ میں جانا چاہیے اور ان سے آپ (س) کی شخصیت کی تعریف معلوم کرنا چاہیے۔ابنا: خدا اور رسول (ص) نے حضرت زہراء مرضیہ (س) کی کیا تعریف کی ہے؟آیت الله علوی گرگانی: جب ہم خدا اور رسول (ص) کی جانب سے کی ہوئی حضرت زہرا(س) کی تعریف پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت زہرا (س) کو کمپاس تخلیق کا مرکزی نقطہ قرار دیا ہے۔ خداوند عالم نے تمام عالمین کی خلقت کو ایک دائرہ میں بند کیا ہے کہ جس کا مرکز حضرت زہرا ہیں۔مثال کے طور پر حدیث کساء میں جناب جبرئیل پوچھتے ہیں: خدایا کساء کے نیچے کون ہیں؟ خداوند عالم نہیں فرماتا پیغمبر ہیں اور ان کی اولاد ہے۔ بلکہ خدا کہتا ہے: "هم فاطمة و ابوها و بعلها و بنوها". یعنی کمپاس کا وہی مرکزی نقطہ۔ خداوند عالم نے حضرت زہرا کو پیغمبر اکرم، علی او حسنین علیہم السلام کی معرفت کا مرکز قرار دیا۔ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ خاتون نبوت اور ولایت کا حقیقی مرکز ہیں گویا نبوت اور ولایت کا درمیانی جوڑ ہیں۔پیغمبر اکرم نے حضرت زہرا کو ’’ام ابیہا‘‘ کی کنیت سے نوازا۔ بہت سے لوگ ام ابیہا کے معنی کو درک نہیں کر پائے کہ یہ کیا ہے؟ در حقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت زہرا (س) مرکزی نقطہ ہیں۔ لہذا ام ابیہا کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر حضرت زہرا(س) نہ ہوں تو پیغمبر کے پاس کوئی مرکزی نقطہ نہیں رہے گا تو کائنات بکھر جائے گی۔دوسری بات حضرت زہرا کو پہچنوانے کے حوالے سے پیغمبر اکرم (ص) کا آپ کی نسبت عجیب قسم کا احترام تھا۔ دنیا کی رسم ہمیشہ یہ رہی ہے کہ امام یا نبی کا ہاتھ چوما جائے۔ یعنی ماموم کو امام کا ہاتھ چومنا چاہیے امت کو نبی کے ہاتھ کا بوسہ لینا چاہیے۔ لیکن یہاں برعکس نظر آ رہا ہے پیغمبر(ص) زہرا کے دست مبارک کا بوسہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ روایات میں ہے کہ جب رسول خدا (ص) حضرت زہرا (س) کے پاس آتے تھے تو حضرت زہرا (س) اپنی جگہ سے اٹھ جاتی تھیں اور بابا کو اپنی جگہ پر بٹھاتی تھیں اور بابا کے ہاتھ کا بوسہ لیتی تھیں اور جب فاطمہ (س) رسول اسلام(ص) کے پاس جاتی تھیں تو رسول اپنی جگہ سے اٹھ کر فاطمہ (س) کو اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے اور آپ کے ہاتھ کا بوسہ لیتے تھے۔ ان روایات کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یقینا اگر یہ بانو اس اعلی مرتبہ پر فائز نہ ہوتیں تو پیغمبر اپنی عظمت کے ساتھ آپ کے ہاتھ کا بوسہ لیتے؟

